رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
انفرادی حرام اعمال
یہ وہ انفرادی حرام اعمال ہیں۔ جِس میں اِنسان کی شخصِیت حرام عمل کرنے کی حامی ہوتی ہے۔ جو مندرجہ زیل ہیں۔
۱۔ شِرک وکُفر حرام۔
"شِرک" یعنی خُدا کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا۔ یا کِسی کو خُدا کی سی عِزّت دینا شِرک کہلاتا ہے۔ شِرک کرنے والا مُشرِک کہلاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خُدا کے ساتھ-۲ براہ راست یا بالواسطہ کِسی اور پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
مِثال:-
اولِیاء اور درگاہیں! بہت سے ناسَمَجھ مُسلمان اولِیاء اور درگاہوں کو خُدا کی سی عِزّت دیتے ہیں۔ خود میں نے ایسے ایسے مُشرِک مُسلِم دیکھے ہیں، جو مسجِدوں میں سال میں دو چار بار ہی جاتے ہونگے، مگر درگاہوں پر شاید ہی کوئی جُمعرات خالی جاتی ہوگی۔
"کُفر" یعنی اپنے ہاتھوں سے بناۓ ہوے مُجسِّموں کی عِبادت کرنا۔ یا خُدا کی خلق کی ہوئی مخلوق کی عِبادت کرنا کُفر کہلاتا ہے۔ کُفر کرنے والا کافِر کہلاتا ہے۔
مِثال:-
بہت سے مذاہِب! جو بھلے ایک خُدا کا تصوُّر رکھتے ہیں۔ لیکن جب عبادت کی بات آتی ہے، تو وہ بتوں، چاند، سورج، ستاروں، انسانوں، جانوروں، فرشتوں، پیر فقیر، حتیٰ کہ رینگنے والے کیڑوں کی بھی پوجا کرتے ہیں۔
قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُؕ قُلۡ اِنِّىۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴿۱۴﴾ قُلۡ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴿۱۵﴾
Q-06:14-15کہو: کیا میں اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا سرپرست بناوں، جبکہ وہ تمام آسمانوں وزمین کا خالق ہے، اور وہ سب کو کھلاتا ہے، مگر خود نہیں کھلایا جاتا۔ کہو: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سب سے اوّل رہوں، اور تم مشرکوں میں نہ ہونا۔ (۱۴) کہو: مجھے ڈر ہے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک عظیم دن میں عذاب کا نشانہ بنایا جائے گا ﴿۱۵﴾۔
خُدا اِنسان کے جِس گُناہ کو چاہیگا بخش دیگا، مگر شِرک اور کُفر ایسے گُناہِ عظیم ہیں، جِن کو کبھی نہیں بخشیگا۔ اُن کے سارے نیک عمل برباد کر دِیے جاینگے۔ اور آخِرت میں اُنکا کوئی حِصّہ نہیں ہوگا۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا ﴿۱۱۶﴾
Q-04:116یقیناً اللہ کسی کو اس کی ذات میں شریک ٹھہرائے جانے کو معاف نہیں کرتا، اور اس کے سوا باقی گناہؤں میں سے جسے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے، وہ بہت دور بھٹک گیا۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا ﴿۴۸﴾
Q-04:48بے شک اللہ اِس بات کو ہرگِز مُعاف نہیں کرتا کہ: اُس کے ساتھ شِرک کیا جائے، البتہ اِس کے علاوہ دوسرے گناہ جس کے لیے چاہیگا مُعاف فرما دیگا۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شِرک کرے، اُس نے یقیناً بہت بڑا بہتان باندھا۔
وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِا بۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ يٰبُنَىَّ لَا تُشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ؔؕ اِنَّ الشِّرۡكَ لَـظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴿۱۳﴾
Q-31:13اور (وہ وقت یاد کرو) جب لُقمانؓ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
۲۔ عہد ﷲ کو توڑنا حرام۔
خُدا سے کِیے عہد کو توڑنے والوں کا آخِرت میں کوئی حِصّہ نہیں۔ خُدا اِن ناپاک لوگوں کو پاک نہیں کریگا۔ خُدا کا عہد توڑنے والے کافِر ہیں۔ خُدا فرماتا ہے کہ: جو مُسلمان ہوکر اپنے دین سے پِھرجاۓ، اور مرنے سے پہلے اِیمان نہ لاۓ، اُس کے سب اعمال غارت ہوے۔ ایسے مُنافِقوں کا آخِرت میں کوئی حِصّہ نہیں۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَشۡتَرُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَاَيۡمَانِهِمۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا اُولٰٓٮِٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنۡظُرُ اِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيۡهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ﴿۷۷﴾
Q-03:77بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اللہ ان سے کلام نہیں کریگا۔ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔ اور انہیں پاکیزہ نہیں کریگا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
خُدا فرماتا ہےکہ: اور اللہ کے عہد (ایمان) کو تھوڑی سی قیمت پر نہ بیچو۔ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔ یعنی جو لوگ ایمان کی دولت سے غافِل ہوکردُنیاوی دولت کے پیچھے دوڑتے ہیں، وہ دُنیا میں ہی رہ جائیگا۔ مگر جو کُچھ تُم نے خُدا کی طرف بھیجا ہوگا، (یعنی نیک عمل) وہ باقی رہیگا۔ اور جو خُدا کی عِبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے مُفلِسی میں بھی صبر کرتے ہیں۔ اور اُسی میں خُدا کا شُکر ادا کرتے ہیں۔ خُدا اُن کے صبر کے بدلے بہترین اعمال کے برابر اَجر دیگا۔ یعنی جو شخص نیک عمل کریں، اور ایک خُدا پر اور اُس کی آیات پر ایمان لاۓ، (خواہ وہ مرد ہو یا عورت)! خُدا اُن کو اُن کے اعمال کے بدلے بہشت کے باغوں میں بہترین زِندگی عطا کریگا۔
وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ؕ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰهِ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۵﴾ مَا عِنۡدَكُمۡ يَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ وَلَـنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۷﴾
Q-16:95-97اور اللہ کے عہد (ایمان) کو تھوڑی سی قیمت پر نہ بیچو۔ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو ﴿۹۵﴾ جو کچھ (دُنیاوی مال ومتاع) تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔ اور ہم (مُفلِسی میں) صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق اَجر دیں گے ﴿۹۶﴾ جو شخص نیک عمل کرے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اور وہ ایمان والا ہو، تو ہم اسے (دُنیا و آخِرت میں) بہترین زندگی عطا کریں گے۔ اور انہیں ان کے بہترین اعمال کے مطابق اَجر دیں گے ﴿۹۷﴾
۳۔ مُنافِقت حرام۔
اور جو لوگ مُنافِق ہوے، اور اُن کا کُفر بڑھتا جاۓ۔ تو خُدا اُن کی توبہ کبھی قُبول نہیں کریگا۔ کیونکہ یہ لوگ گُمراہ ہوے۔ ایسے گُمراہ مُنافِق لوگ اگر زمین بھر کا سارا سونا بھی خرچ کردیں، وہ قُبول نہیں کِیا جائیگا۔ اِن کے تمام اعمال دُنیا وآخِرت میں ضائع ہو گئے۔ یہ لوگ جہنُّم کے باشندہ ہیں۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بَعۡدَ اِيۡمَانِهِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا كُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡۚ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الضَّآ لُّوۡنَ ﴿۹۰﴾ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡ اَحَدِهِمۡ مِّلۡءُ الۡاَرۡضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افۡتَدٰى بِهٖ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَـهُمۡ عَذَابٌ اَلِـيۡمٌۙ وَّمَا لَـهُمۡ مِّــنۡ نّٰصِــرِيۡنَ ﴿۹۱﴾
Q-03:90-91بے شک جو لوگ ایمان کے بعد کُفر اختیار کریں، اور پھر ان کا کفر بڑھ جائے۔ تو ان کی توبہ کبھی قبول نہ کی جائے گی۔ اور یہی گمراہ ہونے والے ہیں۔ ﴿۹۰﴾ بے شک جو لوگ کافر ہوئے، اور کُفر پر ہی مر گئے، اُن سے زمین بھر کا سونا بھی قُبول نہیں کِیا جائیگا۔ یہی وہ لوگ ہیں، جنہیں دردناک عذاب ہوگا۔ اور اُن کا کوئی مددگار نہیں ہوگا ﴿۹۱﴾
وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓٮِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾
Q-02:217اور جو تُم میں سے اپنے دِین سے پلٹے، اور کُفر کی حالت میں مرجائیں، اُن کے تمام اعمال دنیا وآخرت میں ضائع ہو گئے، اور یہی لوگ دوزخ کے باشِندے ہیں، وہ وہاں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
۴۔ سحر اور گنڈے (تعویزات) حرام۔
سَحر (جادو ٹونہ) اور تاویز گنڈوں کے شَر (بُرائی) کو بیچنے والے اور خریدار دونوں پر کُفر ثابِت ہوتا ہے۔ خُدا فرماتا ہے آخِرت میں اِن لوگوں کا کافِروں کی طرح کوئی حِصّہ نہیں۔ خُدا نے قُران میں اِس کام کو کُفر کہا ہے۔ یہ عِلم دو طرح کی صِفت رکھتا ہے۔
اوّل۔ شیطان کا شیطانی عِلم۔ جو کُفر اور غِلاظت آلودہ ہوتا ہے۔
دوم۔ خُدا کا نازِل کردہ عِلم۔ جو خُدا کی آیات میں فِتنہ برپا کرکے یا اُن کو توڑ مروڑ کر آزمایا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اِس عِلم کو خُدا نے دو فرِشتوں ہاروت اور ماروت کے ساتھ زمین پر اُتارا تھا۔ مگر اِس عِلم کو زمین پر اُتارنے کا مقصد آزمائیش تھا نہ کہ فیض۔ اِس لِیے اِس عِلم کو قُوّت بھی بخشی تھی۔ فرِشتوں سے جو بھی اِنسان اِس عِلم کو سیکھنا چاہتا تھا، فرِشتے اُس کو واضح کر دیتے تھے کہ یہ عِلم کُفر کے سِوا کُچھ بھی نہیں۔ اور یہ اِس لِئے کہ: خُدا مومِن اور کافِروں کو جُدا-۲ کرسکے۔
وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّيٰطِيۡنُ عَلٰى مُلۡكِ سُلَيۡمٰنَۚ وَمَا کَفَرَ سُلَيۡمٰنُ وَلٰـكِنَّ الشَّيٰـطِيۡنَ كَفَرُوۡا يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ ؗ ﴿۱۰۲﴾
Q-02:102لوگوں نے اس جادو کی پیروی کی، جو شیاطین نے سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت میں پھیلایا۔سلیمان علیہ السلام نے کوئی کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے کفر کیا، جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔
وَمَآ اُنۡزِلَ عَلَى الۡمَلَـکَيۡنِ بِبَابِلَ هَارُوۡتَ وَمَارُوۡتَؕ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡؕ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهٖؕ وَمَا هُمۡ بِضَآرِّيۡنَ بِهٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِؕ ﴿۱۰۲﴾
Q-02:102اور وہ (روحانی جادو) بھی سِیکھتے تھے، جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا تھا۔ وہ دونوں (فرِشتے) کِسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ "ہم تو صرف ایک آزمائش ہیں، سو کفر نہ کرو۔" پھر بھی لوگ ان سے وہ (جادو) سیکھتے، جو میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتا تھا۔ مگر وہ اس سے کسی کو نقصان نہ پہنچا سکتے تھے، مگر جِس کے لِیے خُدا اِجازت دیں۔
وَيَتَعَلَّمُوۡنَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡؕ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰٮهُ مَا لَهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ ؕ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡؕ لَوۡ کَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَةٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ خَيۡرٌ ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
Q-02:102-103اور وہ جو جادو سیکھتے، وہ اُنہیں نقصان ہی دیتا، اور کوئی فائدہ نہ دیتا۔ حالانکہ وہ خوب جانتے تھے، کہ جو کوئی اُس (جادو) کو خریدے گا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور بیچنے والوں نے بھی یقیناً اپنی جانوں کے ساتھ بُرا سودا کِیا۔ کاش وہ جانتے ہوتے! ﴿۱۰۲﴾ اور اگر وہ ایمان لاتے اور اللہ سے ڈرتے، تو اللہ کے ہاں سے ملنے والا اَجر بہت بہتر تھا، کاش وہ اسے سمجھتے! ﴿۱۰۳﴾ ۔
قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِۙ ﴿۱﴾ مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَۙ ﴿۲﴾ وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ ﴿۳﴾ وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الۡعُقَدِۙ ﴿۴﴾ وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ﴿۵﴾
Q-113:01-05کہہ دو: میں پناہ مانگتا ہوں اس رَبّ کی جو صُبح کی روشنِی کا مالِک ہے ﴿۱﴾ ہر اُس شَر سے جو اُس نے پیدا کِیا۔ ﴿۲﴾ اور اس شر سے جو رات کی تاریکی پھیلنے پر کِیا جاتا ہے ﴿۳﴾ اور گانٹھوں (گنڈوں) پر پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔ ﴿۴﴾ اور حَسَد کرنے والے کے شر سے جب وہ حَسَد کرتا ہے ﴿۵﴾
۵۔ جُوا اور پاسے (لاٹری) حرام۔
جُوا، بُت اور پاسوں کے تیر (لاٹری یا ایسے کھیل جِن میں شرطیں لگائی جاتی ہوں) ناپاک ہیں، یہ شیطان کے کام ہیں۔ سو ان سے بالکل بچو۔ یہ چیزیں حرام ہیں۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾ اِنَّمَا يُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّوۡقِعَ بَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ فِى الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ ﴿۹۱﴾
Q-05:90-91اے ایمان والو! بے شک شراب / نشہ، جُوا، بُت اور پاسوں کے تیر(لاٹری) ناپاک ہیں، یہ شیطان کے کام ہیں۔ سو ان سے بالکل بچو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (۹۰) شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جُوے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذِکر اور نماز سے روک دے۔ پس کیا تم (اب بھی) باز نہ آؤ گے؟ ﴿۹۱﴾
۶۔ سود حرام۔
سود وہ زیادتی ہے جو قرض یا ادھار کی صورت میں لیا جائے۔ جدید بینکاری، کمیشن یا کسی بھی شکل میں مقررہ منافع لینا رِبا (سود) ہے۔ خُدا نے سود کو حرام کِیا ہے۔
اَلَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِىۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ فَانۡتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ وَمَنۡ عَادَ فَاُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ۔ ﴿۲۷۵﴾ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرۡبِى الصَّدَقٰتِؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيۡمٍ ﴿۲۷۶﴾
Q-02:275-276جو لوگ سود کھاتے ہیں، ان کی مِثال اس شخص جیسی ہے جسے شیطان نے چُھو لیا ہو۔ اور وہ ہوش وحواس کھو بیٹھا ہو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا: سود بھی وہی چیز ہے جس میں خرید وفروخت ہوتی ہے۔ درحقیقت اللہ نے خرید وفروخت کو جائز کیا، اور سود کو حرام قرار دیا۔ پس جو کوئی رب کی نصیحت سن کر (یہ کام) چھوڑ دے، تو جو ماضی میں ہو چُکا وہ اُسی کا رہیگا۔ اور اس کا فیصلہ اللہ کے حکم پر چھوڑ دو۔ اور جو دوبارہ سود پر قائم رہے، وہ دوزخ کے باشندے ہیں جہاں ہمیشہ رہیں گے ﴿۲۷۵﴾ اللہ سود کو مِٹاتا ہے، اور صَدقات کو بَڑھَاتا ہے۔ اور اللہ ناشُکرے اور گُنہگار لوگوں کو پسند نہیں کرتا ﴿۲۷۶﴾
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوا الرِّبٰٓوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً ࣕࣕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ ﴿۱۳۰﴾ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَۚ ﴿۱۳۱﴾
Q-03:130-131اے ایمان والو! سود کو بار بار دوگنا چوگنا کر کے نہ کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو سکو ﴿۱۳۰﴾ اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ﴿۱۳۱﴾
۷۔ تکبُّر حرام۔
تکبُّر وہ گناہ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بَرتَر سمجھے، حق بات کو ماننے سے انکار کرے، یا اللہ کی نعمتوں پر غرور کرے۔ خُدا کی بخشی ہوئی روزی کو آزمائیش کی جگہ اپنی عقل ومحنت کا ذخیرہ سمجھے۔ اور اپنی عِزّت اور تکبُّر کا باعِث بناۓ۔ یہ شیطان کا راستہ ہے۔
پس جِس تکبُّر نے خُدا کے عادِل بندے کو مردود شیطان بنا دِیا۔ بیشک وہ تکبُّر حرام ہے۔ خُدا تکبُّر اور تکبُّر کرنے والے دونوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَؗ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴿۳۴﴾
Q-02:34اور (وہ وَقت یاد کرو) جَب ہم نے فرِشتوں سے کہا: 'آدمؑ کو سجدہ کرو۔' تو سب نے سجدہ کِیا سِوائے اِبلیس کے۔ اُس نے اِنکار کِیا اور تکبُّر دِکھایا، اور وہ کافِروں میں شامل ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مخاطب کرتا ہے جو دولت یا حیثیت کے نشے میں مست ہو کر زمین پر اکڑ کر چلتے ہیں، انہیں یاد دلاتے ہیں کہ وہ نہ تو اپنے قدموں کی ٹھوکر سے زمین کو پھاڑ سکتے ہیں اور نہ پہاڑوں کی بلندی تک پہنچ سکتے ہیں۔ تو پھر ایسے فخر کی بنیاد کیا ہے؟
جوانی کے چند لمحاتی سالوں کے بعد کانپتی ہوئی ہڈیاں آتی ہیں، اور بالآخر انسان اسی زمین کا حصہ بن جاتا ہے جس پر وہ کبھی بڑے تکبر سے چلتے تھے۔ جبکہ زمین عربوں سالوں سے نہ جانے کِتنی مخلوق کی پیدائیش اور عُروج اور غُروب اپنی تہوں میں سمیٹے ہوے ہے۔
وَلَا تَمۡشِ فِى الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَلَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾ كُلُّ ذٰ لِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنۡدَ رَبِّكَ مَكۡرُوۡهًا ﴿۳۸﴾
Q-17:37-38اور زَمین پر اَکڑ کر نہ چَلو۔ تُم نہ تو زمین کو پَھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بُلندی تک پہنچ سکتے ہو (۳۷) یہ تکبُّری بُرائیاں تیرے رب کے نضدیق سخت ناگوار ہیں (۳۸)
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ۙ ﴿۳۶﴾
Q-04:36بیشک خُدا تکبّر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
تمام عزت صرف اللہ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ خاص صفت (عزت) اپنے رسولوں اور ان وفادار بندوں کے لیے پسند ہے جو نیک عمل کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ طاقت کے زور پر عزت کی تلاش میں ہیں اور شیطانی تدبیریں کرتے ہیں ان کو آخر کار یہ نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے کہ اللہ ان متکبر لوگوں پر لعنت بھیجتا ہے۔ اور وہ یہ کہ:
خُدا اُن پر اپنی آیات (ہدایت کی روشنی) کو ان پر مہر بند کر دیتا ہے۔ ایسے لوگ اگر اس نور (آیات) سے انجانے میں گزر جائیں تو اندھے کی طرح گزر جاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ ان کی زندگی میں گمراہی کے اندھیرے لکھ دیتا ہے جس پر وہ ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔
وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَلٰـكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸﴾
Q-63:08پس عزت سب اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے لیکن منافق نہیں جانتے۔
مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ جَمِيۡعًا ؕ اِلَيۡهِ يَصۡعَدُ الۡـكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالۡعَمَلُ الصَّالِحُ يَرۡفَعُهٗ ؕ وَالَّذِيۡنَ يَمۡكُرُوۡنَ السَّيِّاٰتِ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ؕ وَمَكۡرُ اُولٰٓٮِٕكَ هُوَ يَبُوۡرُ ﴿۱۰﴾
Q-35:10جو کوئی عزت کا خواہشمند ہو تو ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے۔ پاک کلام اسی کی بارگاہ میں جاتا ہے اور نیک عمل اسے بلند کرتا ہے۔ اور جو لوگ برے مقاصد رچتے ہیں، ان کے لیے شدید عذاب ہے، اور انہی کی چال بے نتیجہ رہ جاتی ہے۔
سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِىَ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ ؕ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا ۚ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ۚ وَّاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَىِّ يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴿۱۴۶﴾
Q-07:146خُدا فرماتا ہے کہ: میں اپنی آیات سے اُن لوگوں کو دور رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبُّر کرتے ہیں؛ وہ اگر ہر نشانی بھی دیکھ لیں تو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور اگر سیدھی راہ دیکھیں تو اسے راستہ نہیں بناتے، لیکن اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسی کو اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اُن سے غافل رہے۔
۸۔ دین پر دُنیاوی خواہِشات کو ترجیح حرام۔
جو مرد یا عورتیں اپنی نفسانی خواہشات کے غلام بن جاتے ہیں یا مال و دولت، شہرت، عہدہ یا دیگر مادی لذتوں کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بناتے ہیں اور اپنے حصول کے لیے اللہ کے نزدیک دینی اقدار، فرائض اور اخلاقی حدود کو نظر انداز کرتے ہیں، یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر حالت میں ہیں۔ اس لیے ان لوگوں تک حق کا پیغام پہنچانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔
قرآن بار بار کہتا ہے کہ دنیا کی عارضی لذتیں آخرت کے مقابلے میں معمولی ہیں اور ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اعمال اور ترجیحات میں اللہ کی رضا کو ترجیح دیں۔ اس لیے دنیاوی خواہشات کو مذہب پر ترجیح دینا ہمیں منافقوں کی فہرست میں ڈال دیتا ہے۔
نوٹ:۔ یہاں ایک بات بہت اچھے سے جان لیں کہ! مسلمان کے گھر میں پیدا ہوکر مسلمان کہلانا جنّت کی ذمانت نہیں ہے۔ اور نہ کوئی سِفارِش کام آئگی۔ جنّت کو کمانا پڑتا ہے۔ خُدا فرماتا ہے! کیا تُم جنّت یونہی پالوگے۔ ابھی تو تُم نے اُن آزمائیشوں کو دیکھا تک نہیں جو تم سے پہلے لوگوں کی ہوئی۔ اِس نوٹ کا یہاں ثابِت نہیں کرونگا، ورنہ موضوع بھٹک جائگا۔ اِنشأﷲ زِندگی رہی تو مستقبل میں اِس موضوع پر بات کرونگا۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴿۱۰۷﴾ اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيۡنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ وَسَمۡعِهِمۡ وَاَبۡصَارِهِمۡۚ وَاُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾ لَا جَرَمَ اَنَّهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
Q-16:107-109یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اس لیے کہ اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (107) یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور بصارت پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ اور یہی لوگ غافل ہیں۔ (108) بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (109)
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَـنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالۡفِضَّةِ وَالۡخَـيۡلِ الۡمُسَوَّمَةِ وَالۡاَنۡعَامِ وَالۡحَـرۡثِؕ ذٰ لِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ ﴿۱۴﴾
Q-03:14خواہشات لوگوں کے لیے مرغوب چیزیں ہیں، جیسے کہ عورتیں، بچے، سونے اور چاندی کے ڈھیر، مخصوص گھوڑے، مویشی اور فصلیں۔ یہ سب دنیا کی زندگی کے فائدے ہیں اور اللہ کے پاس بہترین منزل ہے۔
اَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰٮهُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِ وَكِيۡلًا ۙ ﴿۴۳﴾ اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ يَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ هُمۡ اِلَّا كَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا ﴿۴۴﴾
Q-25:43-44اے مُحمّدؐ: کِیا تُم نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟ تو کیا تم اس پر نگہبان ہو سکتے ہو؟ (نہیں)۔ ﴿۴۳﴾ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے یا عقل سے کام لیتے ہیں؟ (نہیں)۔ وہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ راہ میں ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ﴿۴۴﴾۔
قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَكّٰىۙ ﴿۱۴﴾ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى ﴿۱۵﴾ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۖ ﴿۱۶﴾ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّ اَبۡقٰىؕ ﴿۱۷﴾۔
Q-87:14-17بیشک وہ کامیاب ہوگیا (۱۴) جو پاکیزہ ہوا۔ اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی۔ (۱۵) بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ (۱۶) لیکِن آخرت بہتر اور دائمی ہے۔ (۱۷)
دنیاوی زندگی بمقابلہ آخرت۔
ﷲ تعالٰی دُنیاوی زِندگی کے پیچھے بھاگنے والوں کے لِیے مِثال بیان فرماتا ہے، اور آخِرت میں اُن کو اُن کے انجام سے باخبر کرتا ہے۔
وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ هَشِيۡمًا تَذۡرُوۡهُ الرِّيٰحُ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقۡتَدِرًا ﴿۴۵﴾ اَلۡمَالُ وَ الۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۚ وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا ﴿۴۶﴾ وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ الۡجِبَالَ و تَرَى الۡاَرۡضَ بَارِزَةً ۙ وَّحَشَرۡنٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ اَحَدًا ۚ ﴿۴۷﴾
وَعُرِضُوۡا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا ؕ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۢ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَ لَّنۡ نَّجۡعَلَ لَـكُمۡ مَّوۡعِدًا ﴿۴۸﴾ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَ يَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَـتَـنَا مَالِ هٰذَا الۡـكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰٮهَا ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ؕ وَ لَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا ﴿۴۹﴾
اور اِن کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال اس پانی کی طرح بیان کرو جو ہم نے آسمان سے اتارا، جو زمین کی نباتات کے ساتھ مل کر اسے سرسبز و شاداب بناتا ہے۔ پھر یہ ہواؤں سے خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہو گئے، جنہیں ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے (۴۵)۔
مال اور اولاد تو دنیوی زندگی کی زینت ہیں لیکن باقی رہنے والی نیکیاں وہ ہیں جو تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں۔ (۴۶)۔
اور جس دن ہم پہاڑوں کو حرکت دیں گے اور تم زمین کو ایک ہموار میدان دیکھو گے۔ پھر ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر ان میں سے کسی نافرمان کو نہیں چھوڑیں گے (47)۔
اور وہ سب نافرمان تمہارے رب کے سامنے صف بستہ پیش کیے جائیں گے (اُس وقت اُن سے کہا جائے گا): تم ہمارے پاس ویسے ہی آئے ہو جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، بلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ ہم تمہارے لیے (سزا یا جزا کا) کوئی وعدہ مقرر نہیں کریں گے۔ (۴۸)۔
اور جب ان کے سامنے نامہ اعمال رکھا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ اس میں جو کچھ لکھا ہے اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے: ہائے افسوس! یہ کیسی کتاب ہے جو نہ چھوٹے گناہ کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑے گناہ کو، بلکہ سب کچھ ٹھیک ٹھیک لکھتی ہے؟ اور وہ سب کچھ حاضر پائیں گے جو انہوں نے کیا تھا اور آپ کا رب ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (۴۹)۔
************