۞

دیباچہ

رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
ا

س ویب سائٹ پر ہم اُس آسمانی کتاب قرآن کا مفہوم شیئر کرنے جارہے ہیں، جسے خدا اپنی چار کتابوں میں سے آخری اور مکمّل قرار دیتا ہے۔ اس قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا قبول کرتا ہے۔ اور اسے انسانوں کے لیے آخرت کے دروازے کی کنجی اور دنیاوی زندگی گزارنے کے لیے آئین قرار دیتا ہے۔ اس مضمون میں ایک طرف ہم اپنی تحریر کو آسان زبان میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے، تو دوسری طرف ہم اپنی تحریر کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔

اپنی اس کوشش کے ذریعے ہم دنیا بھر کے ان مسلمانوں اور اہل کتاب سے قرآن کا تعارف کرانا چاہتے ہیں۔ جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے۔ یہ ان مسلمانوں کے لیے آخرت کا تحفہ ہے جو علماء وحافظوں کی اندھی عقیدت میں نسل در نسل طوطے کی طرح قرآن کو دہراتے چلے آ رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے اماموں نے عربی زبان کے ذریعے بے وقوف بنایا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن کو مکمل سمجھنا مشکل ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ قرآن ہر سوال کا جواب نہیں دیتا۔ جبکہ خدا کہتا ہے کہ!

قرآن کی جو آیات ہم نے آپ پر نازل کی ہیں ان میں سے کچھ مُحکم ہیں۔ ان کے معانی سادہ ہیں اور وہ کتاب کا جوہر اور خلاصہ ہیں، اور بعض آیات متشابہ ہیں۔ ان کے معنی پیچیدہ اور مبہم ہیں۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنے کی تلاش میں ان متشابہات کی پیروی کرتے ہیں۔ لیکن ان کا نتیجہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔

Quran-3:07

یعنی دین کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے مُحکم آیات ہی کافی ہیں۔

دوسری طرف، اللّٰهَ فرماتا ہے!

آج ہم نے دین اور برکت (قرآن) کو تم پر مکمل کر دیا ہے۔

Quran-5:03

اب سوال یہ ہے کہ کیا خدا کے کہنے میں کوئی خامی ہے یا مذہبی حکام کے دعوے غلط ہیں؟

میرا دعویٰ ہے کہ اگر مسلمان قرآن کو سمجھ کر پڑھنا شروع کر دیں تو نہ صرف مسلمان بلکہ مومن مسلمان بن جائیں گے۔ میرا رب ساری دنیا کو قرآن کو صِرف پڑھنے کی بجائے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یہاں ایک بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے! مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا یا صرف مسلمان کہلانا جنت کی ضمانت نہیں۔ انبیاء کے سوا جنت پانے والے دو طرح کے لوگ ہوں گے: اول، پرہیزگار (متقی)، اور دوم، سچا مؤمن (مؤمن حقیقی) ۔ قرآن کو سمجھے بغیر کوئی سچا مؤمن نہیں بن سکتا۔ اور جو شخص محض قرآن کی تلاوت کرتا ہے یا آج کے علماء کی تبلیغ سنتا ہے، وہ کفر سے نجات نہیں پا سکتا۔

ﷲ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لیے تورات نازل کی تھی، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لیے انجیل نازل کی تھی۔ اور قرآن کو محمّد صلی ﷲ علیہ وسلم کی اُمّت کے لیے نازل کیا۔ تاکہ لوگ ان مقدس کتابوں کے ذریعے خدا کو تلاش کریں، اور اس کی سنت اور اس کی شریعت کو سمجھیں۔ لیکن افسوس! ﷲ کے طریقے کے بجائے، وہ نبی کی سُنّت اور ﷲ کی شریعت کی بجائے وہ شیطان کی شریعت کو سنتے، جانتے اور مانتے ہیں۔ جو دنیا میں رائج ہے۔

کچھ لوگ یہاں پر مبہم ہو سکتے ہیں اور سوچ سکتے ہیں کہ شاید میں نبی ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا۔ لیکن حقیقت اِس کے برعکس ہے۔ نبی ﷺ کی زندگی قرآن کے مطابق تھی، اسی لیے عُلمأ ان کے طریقے (سُنّت) اور احادیث کی حِمایت کرتے ہیں۔ تاہم وہ کتابیں (احادیث) جن میں نبی ﷺ کی زندگی کے احوال جمع کیے گئے ہیں، ان کو آپ ﷺ کی وفات کے تقریباً دو سو سال بعد لکھا گیا۔ اب برائے مہربانی غور وفِکر کے ساتھ فیصلہ کریں اور جواب دیں:

کیا ہمیں اُسی مُقدّس کِتاب قرآن کی پیروی کرنی چاہیے جس کی پیروی خود نبی ﷺ نے کی تھی۔ یا اُن احادیث کی، جنہیں دو سو سال بعد مرتب کیا گیا؟ خُدا فرماتا ہے۔

کہو- کِیا میں اللہ کے سِوا کسی اور کو اپنا حاکم بناؤں؟ حالانکہ وہ (اللہ) ہی ہے جس نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازِل کی، جس میں تمام تفاصیل بیان کر دی گئی ہیں۔

Quran-6:114

آج کل قرآن کے تراجم ہر زبان میں موجود ہیں، تو کل قیامت کے دن خدا کے سامنے کھڑے ہو کر کِیا آپ یہ کہیںگے: اے میرے ربّ! ہمیں عربی نہیں آتی تھی، اس لیے ہم نے اپنے اِماموں سے جو سنا قبول کر لیا۔ جبکہ ﷲ فرماتا ہے۔

اور میرے بندے کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اُن پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں گرتے۔

Quran-25:73

یعنی بغیر محنت کیے، تیری اور میری بات سن کر، بغیر تحقیق کیے، آسان راستہ اختیار کر کے، آپ جنت کے حقدار بن جائیں گے۔ کبھی نہیں۔ خدا کہتا ہے۔

کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاو گے، جبکہ تم پر ایسے امتحان ابھی نہیں آئے جو تم سے پہلے والوں پر آئے تھے؟

Quran-2:214

کیا لوگ یہ خیال کیے ہوئے ہیں کہ فقط یہ کہنے پر کہ "ہم ایمان لائے" انہیں چھوڑ دیا جائے گا، اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟

Quran-29:2-3

ﷲ تو انہی لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف جدوجہد کرتے ہیں۔

Quran-13:27

اور بے شک ہم نے جو کچھ زمین میں ہے اُسے لوگوں کے لیے زینت کا سامان بنایا ہے تاکہ ہم اُنہیں آزمائیں، کہ اُن میں سے کون اچھے عمل میں آگے ہے۔

Quran-18:7

یعنی یہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے۔ اگر چاہو تو اپنے اعمال کو آخرت کی سیڑھی بنا لو، ورنہ سکون کی زندگی ہر وقت میسر ہے۔ کیونکہ اُمّتِ مُسلمہ کے عُلمأ کرام وضاحت دیتے ہیں، کہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وسلم شفاعت کریں گے اور سب کو نجات دِلا دیںگے۔ ﷲ فرماتا ہے کہ!

اور اللہ کے سامنے کوئی نبی نہیں بول سکتا۔ وہ اس کے حکم سے کام کرتے ہیں۔ اور نہ ہی کسی کی شفاعت کر سکتے ہیں۔ سوائے اس کے جس سے اللہ راضی ہو۔

Quran-21:27–28

یعنی شفاعت کا حق صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ اور اُس دن نبی ﷺ فرمائیںگے:

اے میرے ربّ، میری قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔

Quran-25:30

اس لیے ہم نے قرآن کی آیات کو موضوعاتی عنوانات کے تحت ترتیب دیا ہے تاکہ سمجھنا آسان ہو جائے۔ جن کے دلوں میں کفر کا طوق ہے ان کے لیے یہ کوشش خنجر کے وار کی طرح ہوگی، اور دوسروں کے لیے انشاء اللہ ہدایت کا راستہ ثابت ہوگی۔ اللہ ہماری اس کوشِش کو قبول ومنظور فرمائے۔ آمین

ڈاکٹر منصوری