رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

معاشرتی حرام اعمال

خُدا نے قرآن میں ایسے اعمال کو حرام قرار دیا ہے جو معاشرتی، اخلاقی یا دینی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ خُدا نبی ﷺ کو حُکم فرماتا ہے کہ مومنوں سے کہو! آؤ میں ﷲ کی وہ باتیں بیان کروں، جو تم پر اللہ نے حرام کی ہیں:

۱۔ والدین کے ساتھ بدسلوکی کرنا حرام ہے۔

۲۔ غُربت کے خوف سے اولاد کو مارنا حرام ہے۔

۳۔ زِنا کاری اور بےحیائی حرام ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا دل میں پوشیدہ ہوں۔

۴۔ قتل کرنا حرام ہے۔ِبرَ

۵۔ یتیموں اور دوسروں کا مال کھانا حرام ہے۔

۶۔ ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے۔

۷۔ انصاف (عدل) قائم نہیں کرنا حرام ہے۔ خواہ دشمن ہو۔

یہ خُدا کے احکام ہیں، تاکہ تم سمجھو۔

قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ‌ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡـًٔـــا وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ‌ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ‌ ۚ وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿۱۵۱﴾ ۔ وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ‌ ۚ وَاَوۡفُوۡا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ‌ ۚ لَا نُـكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا‌ ۚ وَاِذَا قُلۡتُمۡ فَاعۡدِلُوۡا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى‌‌ ۚ وَبِعَهۡدِ اللّٰهِ اَوۡفُوۡا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ ۙ‏ ﴿۱۵۲﴾

Q-06:151-152

کہو: آؤ وہ پڑھے، جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا ہے!
کہ اُس (خُدا) کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ اور والدین کے ساتھ بدسلوکی کرنا۔ اور افلاس (غُربت) کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کرنا، کہ ہم ہی تمہیں اور انہیں روزی دیتے ہیں۔ اور تمام بےحیائی کے کاموں کو کرنا، چاہے وہ ظاہری ہوں یا پوشیدہ۔ اور ایسی جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہو، سوائے حق کے ساتھ۔ یہ وہ احکام ہیں جو اللہ نے تمہیں دِیے ہیں، تاکہ تم سمجھو۔ ﴿۱۵۱﴾۔
اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، سوائے اس طریقے کے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ اور جب تم بات کہو تو عدل (اِنصاف) کرو، چاہے وہ رشتہ دار ہی کا معاملہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ وہ حُکم ہیں، جِن کی اللہ نے تمہیں تاکید کی ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ ﴿۱۵۲﴾۔

اِن کے علاوہ بھی ﷲ تعالیٰ قران میں الگ الگ مُقام پر اور کئی معاشرتی حرام اعمال کو بیان فرماتا ہے۔
۸۔ جھوٹی گواہی (شہادت) حرام ہے۔
۹۔ دہشت گردی حرام ہے۔
۱۰۔ ظُلم کرنا حرام ہے۔
۱۱۔ چوری کرنا حرام ہے۔
۱۲۔ دین میں فِرقہ بنانا یا فِرقوں میں شامِل ہونا کُفر ہے۔

لہٰذا اب ہم ان معاشرتی حرام اعمال کو قرآن مجید کی روشنی میں تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

۱۔ والدین کے ساتھ بدسلوکی کرنا حرام۔

خُدا والدین کے ساتھ اچھا سلُوک کرنے کا حُکم دیتا ہے۔ خواہ وہ مُسلِم نہ ہوں۔ والدین کے ساتھ بھلائی کے کام کرو۔ اور نرمی سے بات کرو۔ ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کو خُدا حرام فرماتا ہے۔ کیونکہ وہ والِدہ ہی ہے جو تُم کو نو مہینے تک اپنے پیٹ میں اُٹھاۓ پِھرتی ہے۔ حتیٰ کہ: اُس کا چلنا پِھرنا، اُٹھنا بیٹھنا غرض یہ کہ کھانا پینا بھی دُشوار ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف والِد اپنے بچّوں کی نشونُما اور خاندان کی حِفاطت کے لِیے دِن رات محنت کرتا ہے۔ خاندان اور بچّوں پر والِد کا سایہ دُنیا میں بہشت کی کِھڑکی سے کم نہیں۔ قُرآن میں خُدا نے اپنی عِبادت کے بعد والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے کا حُکم دِیا ہے۔

قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ‌ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡـًٔـــا وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ۚ ﴿۱۵۱﴾

Q-06:151

کہو کہ آؤ میں وہ بات بیان کروں جو تم پر اللہ نے حرام کی ہیں۔ وہ یہ کہ! اس ربّ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراؤ، یا ماں باپ کے ساتھ حُسن سلوک نہ کرو۔

وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسٰنَ بِوَالِدَيۡهِ‌ۚ حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ وَّفِصٰلُهٗ فِىۡ عَامَيۡنِ اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَؕ اِلَىَّ الۡمَصِيۡرُ‏ ﴿۱۴﴾

Q-31:14

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری اٹھاتے ہوئے اسے پیٹ میں رکھا، اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوا۔ (پس ہم نے اسے حکم دیا کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا بھی؛ آخیر میری ہی طرف سب کو واپس آنا ہے۔

خُدا فرماتا ہے کہ اپنے ربّ کی عِبادت کرو۔ اُس کے سِوا کوئی عِبادت کے لائق نہیں۔ اور اگر تُمہارے والدین یا اُن میں سے کوئی ایک بھی موجود ہے، تو اُن کی خِدمت کرو۔ اور اگر وہ بوڑھے ہو گئے ہیں، اور بوڑھاپے کی وجہ سے اُن کا مِزاج چِڑچِڑا ہو جاۓ، تو اُن سے اُف تک نہ کرو اور نہ اُن کو جِھڑکو۔ بلکہ نرمی اور عِزّت سے بات کرو۔ اور مُحبّت و ادب سے اُن کے حُکم پر سَر خم کردو۔ اور اُن کے لِیے خُدا سے دُعا کرو۔

"یا ربّ: میرے والدین پر اُس طرح رحم و شفقت فرما، جِس رحم و شفقت سے اُنہونے میری پرورِش کی تھی"۔

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ؕ اِمَّا يَـبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏ ﴿۲۳﴾ وَاخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِىۡ صَغِيۡرًا ؕ‏ ﴿۲۴﴾

Q17:23-24-

اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اسی کی بندگی کرو، اس کے سوا کسی کو نہ پوجو؛ اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے ساتھ رہتے ہوئے بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ ہی جھڑکو؛ بلکہ ان سے نرمی اور عزت سے بات کرو ﴿۲۳﴾ اور محبّت ورَحمت سے ان کے آگے اپنی عاجزی جھکا دو، اور یوں دعا کرو: اے میرے رب! ان پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کر کے مجھ پر شفقت کی تھی ﴿۲۴﴾

۲۔ جنین کو مارنا حرام۔

قرآن کریم میں تنگ دستی یا غُربت کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا حرام ہے۔ خُدا فرماتا ہے کہ: تُمہیں بھی اور تُمہارے بچّوں کو بھی روزی ہم پہنچاتے ہیں۔

رسول کے زمانے میں عرب اپنی بیٹیوں کو زِندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ مگر آج کے زمانے میں بیٹی ہی نہیں بلکہ بیٹوں کو بھی سیدھا رحم میں گاڑ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں آج کل مہنگائی کے اِس دور میں ایک دو بچّوں کی پرورِش کرنا بھی مُشکِل ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہے تو: اِنسان سمجھنے لگا ہے کہ اپنی اور اپنے بچّوں کی تقدیر وہ خود لِکھتا ہے۔ خاندان اور بچّوں کی پرورِش وہ خود کر رہا ہے۔ ذرا سوچیں: کِیا یہ خُدا کا اِنکار نہیں ہے؟ اور کِیا یہ کُفر نہیں ہے؟

وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ خَشۡيَةَ اِمۡلَاقٍ‌ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَاِيَّاكُمۡ‌ؕ اِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡاً كَبِيۡرًا‏ ﴿۳۱﴾

Q-17:31

اور اپنی اولاد کو رزق کی تنگ دستی کے خوف سے قتل نہ کرو؛ ہم انہیں اور تمہیں روزی دینے والے ہیں۔ بے شک ان کا قتل بڑا ظلم ہے۔

وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاكُمْ ؕ ﴿۱۵۱﴾

Q-06:151

اور اَپنی اولاد کو تَنگدستی کے باعِث قتل نہ کرنا، ہم تُمہیں اور اُنہیں دونوں کو رزق دیتے ہیں۔

وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُٮِٕلَتۡ‏ ﴿۸﴾ بِاَىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ‌ۚ‏ ﴿۹﴾ ۔

Q-81:08-09

اور جب وہ بچی (جِس کو زِندہ دفن کِیا گیا) پُوچھی جائے گی ﴿۸﴾ کہ کس جُرم کی بِنا پر اُسے مار دیا گیا تھا۔ ﴿۹﴾

۳۔ زِنا اور بے حیائی (فحشہ) حرام ہے۔

زِنا اور بے حیائی (فحاشی یا بے شرمی) کو قرآن مجید میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ خواہ وہ ظاہِر ہو یا پوشیدہ۔

زِنا۔

غیرشادی شدہ مرد وعورت کا جسمانی طور پر تعلق قائم کرنا زِنا ہوتا ہے۔

بےحیائی۔

گفتگو، نگاہ، لباس یا برتاؤ کے ذریعے شرم و حیا کو ترک کرنا بےحیائی (فحاشی) ہے۔ مثلاً: فحش گفتگو، پردہ نہ کرنا، مرد و عورت کے درمیان اشتعال انگیز تعلقات، فحش ویڈیوز دیکھنا، حتیٰ کہ گناہ پر اصرار کی نیت بھی بے حیائی کے زمرے میں شامِل ہے۔

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ الۡـفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴿۳۳﴾

Q-07:33

کہو: میرے رب نے بےحیائی کے کام حرام کیے ہیں۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا دل میں چھپے ہوں۔

وَلَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً  ؕ وَسَآءَ سَبِيۡلًا‏ ﴿۳۲﴾

Q-17:32

اور زِنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ انتہائی بدکاری ہے اور راہِ تباہی ہے۔

خُدا فرماتا ہے کہ: ایک مومِن مرد کا زانی عورت سے، اور ایک مومِن عورت کا زانی مرد سے نِکاح حرام ہے۔

دوسرے لفظوں میں یُوں کہہ سکتے ہیں کہ: زانی فِطرت رکھنے والے مرد کا واسطہ زانی فِطرت رکھنے والی عورتوں سے یا مُشرِک عورتوں سے پڑتا ہے۔ اور زانی فِطرت رکھنے والی عورت کا واسطہ زانی فِطرت رکھنے والے مرد یا مُشرِک مرد سے پڑتا ہے۔

تیسرے لفطوں میں یُوں کہہ سکتے ہیں کہ: پاک دامن مومِن مرد کا واسطہ پاک دامن مومِن عورت سے پڑتا ہے۔ اور پاک دامن مومِن عورت کا واسطہ پاک دامن مومِن مرد سے پڑتا ہے۔

یہ خُدا کے ضابطے ہیں۔ جو قائم تھے، قائم ہیں، اور اِنشاءﷲ قائم رہینگے۔ اگر یقین نہیں تو معاشرے میں اُن جوڑوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے، جِن سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ سب سے بہترین جواب پانا ہے، تو اپنے گِریبان میں جھانک کر دیکھے۔ اگر آپ پاک دامن ہیں تو اِنشاءﷲ آپکو پاک دامن عورت مِلی ہوگی، اور اگر آپ کے دامن پر داغ تھا تو آپ کی شریک حیات یا تو داغدار ہوگی یا دین سے اُس کا کوئی واسطہ نہ ہوگا۔ یعنی مُشرِکہ ہوگی۔

اَلزَّانِىۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً ؗ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنۡكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِكٌ‌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰ لِكَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿۳﴾

Q-24:03

زانی مرد صرف زانیہ یا مشرکہ سے نکاح کرتا ہے، اور زانیہ عورت سے نکاح صرف زانی یا مشرک کرتا ہے؛ اور یہ (بدکاری لوگ) مؤمنوں پر حرام ہیں۔

اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ‌ۚ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ‌ۚ اُولٰٓٮِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ‌ؕ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴿۲۶﴾

Q-24:26

ناپاک عورتیں ناپاک مَردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مَرد ناپاک عورتوں کے لِیے ہیں ۔ اور پاک عورتیں پاک مَردوں کے لِیے ہیں اور پاک مَرد پاک عورتوں کے لِیے ہیں۔ یہ (پاک لوگ) اُن کی باتوں سے پاک ہیں۔ ان کے لیے بَخشِش اور عِزّت والا رِزق ہے۔

۴۔ قتل کرنا حرام ہے۔

کِسی بھی مومِن کو قصّاص کے بغیر یا زمین میں فساد پھیلانے کے جُرم کے بغیر قتل کرنا حرام ہے۔

خُدا فرماتا ہے کہ: اگر تُم نے ایک قتل کر دِیا، گویا ساری اِنسانِیت قتل کردی۔ اور اگر ایک جان بچالی، گویا ساری اِنسانِیت بچالی۔

ہم اس معاملے کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں: دنیا کی تمام انسانیت ایک ہی جوڑے سے پیدا ہوئی ہے، یعنی باپ آدم علیہ السلام اور ماں حوّا۔ لہٰذا، اگر مقتول کو قتل نہ کیا گیا ہوتا، تو کون جانتا ہے کہ قیامت کے وقت تک اس کی اولاد کے ذریعے کتنے لوگ زمین کو آباد کر چکے ہوں گے۔

وَمَنۡ يَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَـنَّمُ خَالِدًا فِيۡهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيۡمًا‏ ﴿۹۳﴾

Q-04:93

اور جو کوئی کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ اس پر غضب ناک ہے اور اس نے اسے اپنی رحمت سے دور کیا ہے، اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کیا ہے۔

كَتَبۡنَا عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا ‌ؕ ﴿۳۲﴾

Q-05:32

ہم نے بنی اسرائیل پر یہ قانون نافذ کیا کہ جو شخص کسی جان کو بغیر کسی جان کے بدلے (یعنی قصاص کے بغیر) یا زمین میں فساد پھیلانے کے جرم کے سِوا قتل کرے، تو گویا اُس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا۔ اور جو کسی کی جان بچائے، تو گویا اُس نے پوری انسانیت کو زندگی بخش دی۔

۵۔ یتیموں کا مال کھانا حرام ہے۔

جو لوگ ناحق طریقے سے یتیم بچّوں کا مال کھاتے ہیں، درحقیقت وہ اپنے پیٹوں میں جہنّم کی آگ بھرتے ہیں۔ خدا کی عدالت کے دن اُنھیں جہنّم کی بھڑکتے ہوے شعلوں میں داخل کیا جائیگا۔

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا اِنَّمَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا‌ ؕ وَسَيَـصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا ﴿۱۰﴾

Q-04:10

بے شک جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں، وہ حقیقت میں اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں، اور عنقریب وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

خُدا فرماتا ہےکہ: اگر یتیم کے مال کی دیکھ بھال کرتے ہوے آپ کی معاشی صورتحال کمزور ہو، تو واجِب طریقے سے اپنا محنتانہ حاصِل کریں۔

وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ‌ ۚ ﴿۱۵۲﴾

Q-06:152

اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائے۔

اور جب یتیم بچّے بالِغ ہو جائیں، تو اُن کو اُن کا مال واپس کردو۔ اور اُن کے اچھے مال کو اپنے بُرے مال سے نہ بدلو۔ یہ حرام ہے۔

وَاٰ تُوا الۡيَتٰمٰٓى اَمۡوَالَهُمۡ‌ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِيۡثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ‌ اِلٰٓى اَمۡوَالِكُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوۡبًا كَبِيۡرًا‏‏ ﴿۲﴾

Q-04:02

اور یتیموں کو ان کے مال واپس کر دو، اور اُن کے اچھے مال کو اپنے بُرے مال سے نہ بدلو، اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

۶۔ لوگوں کا مال ہڑپنا حرام۔

اے لوگوں ایک دوسرے کا مال ضبط کرنا، قرض لیکر مُکر جانا، یا واپس نہ کرنا، خُدا نے اِس طرح کی بُرائیوں کو قتل کے مشابہ قرار دیا ہے۔ جو کہ حرام ہے۔ دوسروں کا مال کھانے والے درحقیقت اپنے پیٹوں میں جہنّم کی آگ بھرتے ہیں۔

خُدا فرماتا ہے کہ: اے لوگوں دوسروں کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، یہ خود کو قتل کرنے جیسا ہے۔ اُس کا یہ ظُلم خود اُس کو جہنُّم میں داخِل کر دیگا۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ‌ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا‏ ﴿۲۹﴾ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ عُدۡوَانًا وَّظُلۡمًا فَسَوۡفَ نُصۡلِيۡهِ نَارًا‌ ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا‏ ﴿۳۰﴾

Q-04:29-30

اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ تمہاری آپسی رضامندی سے تجارت ہو۔ اور (یہ ظُلم کرکے) اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے ﴿۲۹﴾ اور جو کوئی یہ کام زیادتی اور ظلم کے ساتھ کرے گا، تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ ﴿۳۰﴾

امانت میں خیانت نہیں۔

کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ: کِسی نے تُمہارے پاس امانت رکھی، اور اُس کا کِسی کو عِلم نہیں۔ اب ایسے میں اگر امانتی کی موت ہو جائے۔ تب بھی وہ مال تُم پر حلال نہیں۔ خُدا فرماتا ہے کہ وہ مال تُم نہ کھا جاؤ، بلکہ اُس کے حقداروں کو ڈھونڈ کر اُن تک پہنچادو۔

اگر کِسی شخص کی بغیر وصِیّت کِیے موت واقِعہ ہو جاۓ، ایسی صورت میں قُران کے مُطابِق اُس کے حقداروں کو پورا-۲ حق دِیا جاۓ۔

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ﴿۵۸﴾

Q-04:58

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچاؤ، بیشک اللہ تمہیں اس پر نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔

۷۔ ماپ تول میں کمی کرنا بھی حرام۔

خُدا نے دُنیا میں میزان قائم کِیا۔ تاکہ عدل قائم ہو سکے۔ ترازو قائم کی تاکہ اِنصاف کے ساتھ ٹھیک-۲ تولو۔ اور کمی نہ کرو۔ خدا فرماتا ہے کہ ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔ تاکہ تُمہارا انجام اچھا ہو۔

وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَۙ‏ ﴿۷﴾ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِى الۡمِيۡزَانِ‏ ﴿۸﴾ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ‏ ﴿۹﴾

Q-55:07-09

اور اُس نے آسمانوں کو بلند کیا اور میزان (نظام عدل) قائم کیا۔ (7) تاکہ تم میزان میں کوتاہی نہ کرو۔ (8) اور انصاف کے ساتھ تولو اور تولنے میں کوتاہی نہ کرو۔ (9)

وَاَوۡفُوۡا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ‌ ۚ ﴿۱۵۲﴾

Q-06:152

اور ناپ تول کو مکمل انصاف سے ادا کرو۔

وَاَوۡفُوا الۡـكَيۡلَ اِذَا كِلۡتُمۡ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ‌ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا‏ ﴿۳۵﴾

Q-17:35

اور جب تم ناپو، تو صحیح ناپ پورا کرو۔ اور سیدھے ترازو سے تولو۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی اچھا ہے.

خُدا فرماتا ہے جو لوگ مال خریدنے کے وقت پورا تول کر لیتے ہیں۔ مگر جب بیچتے ہیں، تو کم تول کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے لِیے تباہی کا سامان اِکٹّھا کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایک عظیم دِن میں جب زِندہ کر کے اُٹھایا جائیگا۔ اُس دِن تمام لوگ ربّ کے سامنے جمع ہونگے۔ اور اپنے کِیے ہوے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کو دیکھ لینگے۔

وَيۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَۙ‏ ﴿۱﴾ الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ يَسۡتَوۡفُوۡنَ ﴿۲﴾ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوْ وَّزَنُوۡهُمۡ يُخۡسِرُوۡنَؕ‏ ﴿۳﴾ اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓٮِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ‏ ﴿۴﴾ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ‏ ﴿۵﴾ يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ‏ ﴿۶﴾

Q-83:01-06

تباہی ہے کم تول والوں کی! ﴿۱﴾ جو لوگ مال لینے کے وقت پورا تول کر یا ناپ کر لیتے ہیں ﴿۲﴾ مگر جب دوسروں کو مال دیتے ہیں، تو کم کر دیتے ہیں ﴿۳﴾ کیا ان کو یہ خیال نہیں کہ اُنہیں اٹھایا جائے گا ﴿۴﴾ ایک عظیم دِن کے لیے ﴿۵﴾ جس دن لوگ تمام عَالم کے رب کے حضور کھڑے ہوں گے ﴿۶﴾

اور آخیرکار خدا فرماتا ہے کہ! تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے واضح دلیلیں بھیج دی گئی ہیں۔ پس ناپ تول کو پورا کرو۔ یا سزا کے لِیے تیّار رہو۔

قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ فَاَوۡفُوا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ ﴿۸۵﴾

Q-07:85

تُمہارے پاس تُمہارے ربّ کی طرف سے واضح دلِیل آ چکی ہے، پس ناپ تول پورا کرو۔

۸۔ اِنصاف قائم نہیں کرنا حرام۔

خُدا فرماتا ہے کہ جب تُم کو بُلایا جاۓ، تو اُس کی نازِل کِتاب (قُرآن) میں جو ھِدایات ہیں، اُن کے مُطابِق اِنصاف کرو۔ اور ثابِت قدم رہکر گواہی دو۔ خواہ وہ تمہارا دشمن ہو۔

وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ﴿۵۸﴾

Q-04:58

اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو۔ اللہ تمہیں کتنی اچھی نصیحت کرتا ہے! بلاشبہ اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ‏ ﴿۴۵﴾

Q-05:45

اور جو شخص اللہ کی نازل کردہ ھِدایات کے مطابق فیصلہ نہ کرے، وہی لوگ ظالم ہیں۔

انصاف بمقابلہ تقویٰ۔

اگر کِسی اِنسان یا قوم کے لِیے تُم اپنے دِل میں دُشمنی رکھتے ہو، تب بھی اِنصاف کرو، خُدا فرماتا ہے کہ: اِنصاف تقویٰ کے نزدیق ہے۔ یعنی اِنصاف پسند لوگ خُدا کے مُقرَّب بندوں میں شامِل ہونے کے زیادہ نزدیق ہوتے ہیں۔ بے شک اللہ ہمارے اعمال سے باخبر ہے۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ ؗ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا‌ ؕ اِعۡدِلُوۡاࣞ هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿۸﴾

Q-05:08

اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر ثابت قدم رہنے والے گواہ بنو، اور تمہارے دلوں میں کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ اُبھارے، کہ تم انصاف نہ کرو۔ (ہر قیمت پر) اِنصاف کرو، یہی تقویٰ (پرہیزگاری) کے زیادہ نزدیک ہے، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

۹۔ جھوٹی گواہی حرام۔

خُدا فرماتا ہے کہ: حق پر گواہی دو۔ یہاں تک کہ: اگر مُقدمہ تُمہارے خِلاف ہو، یا تُمہارے ماں باپ کے خِلاف ہو یا کِسی قریبی رِشتہ دار کے خِلاف ہو، تب بھی پورے اِنصاف کے ساتھ گواہی دو۔ اور خواہِش نفس کی پیروی میں گواہی کو پیچیدہ نہ بناؤ۔ اگر کِسی مُعاملہ میں ایک فریق غریب و دوسرا فریق مالدار ہے۔ ایسی حاالت میں تُمہاری گواہی یا عدل پر مالدار فریق کا اثر نہ آنے پاۓ۔ کیونکہ خُدا کے لِیے دونوں برابر ہیں۔ بلکہ کئی صورت میں غریب خُدا کے زِیادہ قریب ہوتاا ہے۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّامِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ‌ ؕ اِنۡ يَّكُنۡ غَنِيًّا اَوۡ فَقِيۡرًا فَاللّٰهُ اَوۡلٰى بِهِمَا‌ فَلَا تَتَّبِعُوا الۡهَوٰٓى اَنۡ تَعۡدِلُوۡا ‌ۚ وَاِنۡ تَلۡوٗۤا اَوۡ تُعۡرِضُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا‏ ﴿۱۳۵﴾

Q-04:135

اے ایمان والو! ہمیشہ انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کی خاطر گواہی دو، خواہ (وہ گواہی) خود تمہارے خلاف پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔ اگر فریق مُقدمہ دولت مند ہو یا محتاج، اللہ ان دونوں کا زیادہ حق دار ہے۔ پس خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے نہ ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم (گواہی میں) لفظوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرو، تو یاد رکھو: اللہ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔

خُدا فرماتا ہے کہ: خُدا کے نیک بندے کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ اور نہ گواہی چِھپاتے ہیں، کیونکہ اِس سے اُن کا دِل گُناہ کے إحساس سے بےقرار ہو جاتا ہے۔ اور جب فضول ولغو بات کے پاس سے گزرتے ہیں تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں۔

وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَۙ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا كِرَامًا‏ ﴿۷۲﴾

Q-25:72

اور (رحمان کے سچے بندے وہ ہیں) جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے، اور جب فضول ولغو بات کے پاس سے گزرتے ہیں تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں۔

وَلَا تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ ؕ وَمَنۡ یَّکۡتُمۡہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُہٗ ؕ وَاللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۳﴾

Q-02:283

اور گواہی نہ چھپاؤ، اور جو کوئی اسے چھپائے تو اس کا دل گُناہ کا مرتکب ہے، اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔

۱۰۔ دہشت گردی حرام۔

وہ لوگ جو زمین پر غُلبہ پانے کے لِیے، یا سِیاسی فائدے کے لیے، محض تکبُّر میں اندھے ہوکر معصوم لوگوں کے جان وَمال کا نُقصان کرتے ہیں۔ اور زمین پر ناحق دہشت پھیلاتے ہیں۔ یہ وہ حرام کام ہیں۔ جِن کا بدلہ دردناک عذاب ہے۔

وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِى الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا وَيُهۡلِكَ الۡحَـرۡثَ وَالنَّسۡلَ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ‏ ﴿۲۰۵﴾ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتۡهُ الۡعِزَّةُ بِالۡاِثۡمِ‌ فَحَسۡبُهٗ جَهَنَّمُ‌ؕ وَلَبِئۡسَ الۡمِهَادُ‏ ﴿۲۰۶﴾

Q-02:205-206

اور جب وہ اقتدار حاصل کر لیتا ہے، تو زمین میں فساد پھیلانے اور کھیتی اور اِنسانی نسل کو تباہ کرنے کے لیے دوڑتا پھرتا ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ ﴿۲۰۵﴾ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے ﴿۲۰۶﴾

اِنَّمَا السَّبِيۡلُ عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏ ﴿۴۲﴾

Q-42:42

إلزام تو صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ‏ ﴿۸۵﴾

Q-07:85

اور لوگوں کو ان کی چِیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ مچاؤ۔ یہ تُمہارے لِیے بہتر ہے اگر تم مومِن ہو۔

زمین میں فساد پھیلانا اسلام میں نہایت سنگین جرم اور گناہ کبیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں: بے شک اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں فرماتا فساد کا یہ عمل صرف ایک چھوٹی سی کوتاہی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کے مترادف ہے۔ اس دنیا میں ان کی سزا موت یا مخالف سمت سے ہاتھ پاؤں کاٹنا یا جلاوطنی شامل ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔

اسلام امن وسلامتی کا دین ہے، لِہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ معاشرہ میں امن قائم رکھے، اور انتشار سے بچے۔

وَالۡفِتۡنَةُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ‌ؕ ﴿۲۱۷﴾

Q-02:217

اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔

وَلَا تَبۡغِ الۡـفَسَادَ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿۷۷﴾

Q-28:77

اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ۔ یقیناً اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ يُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ يُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ يُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ‌ؕ ذٰ لِكَ لَهُمۡ خِزۡىٌ فِى الدُّنۡيَا‌ وَلَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴿۳۳﴾

Q-05:33

اور جو لوگ زمین میں فساد پھیلانے کے لِیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں اُن کی سزا یہی ہے کہ یا تو انہیں قتل کر دیا جائے، یا سولی پر چڑھایا جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں، یا (ملک سے) نکال باہر کیا جائے۔ یہ دنیا میں اُن کی رسوائی ہے، اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

۱۱۔ ظُلم کرنا حرام۔

ظُلم بیشک ایک لفظ ہے۔ مگر اِس کی تشریح وسیع ہے۔ مثلاً

• جب کوئی خُدا کا اِنکار یا شِرک کرتا ہے، تو وہ خود پر ظُلم کرتا ہے۔ یہ وہ ظُلم ہے جِس کی تلافی ممکن نہیں۔ پس یہ ظُلم حرام ہے۔

• جب کوئی سود کھاتا ہے۔ چوری کرتا ہے۔ یتیم کا مال ہڑپتا ہے۔ جھوٹی گواہی دیکر اِنصاف کا قتل کریں۔ ماپ تول میں کمی کر لوگوں کے حقوق کی پامالی کرتا ہے، تب یہ معاشرتی ظُلم حرام ہیں۔

• جب کوئی نفس کی خواہِش کو دین پر غالِب کردیں، ایسے لوگوں کو خُدا نے مُنافِق کہا ہے۔ پس یہ ظُلم بھی حرام ہیں۔

• جب کوئی بدکاری اور بےحیائی کی راہ پکڑلیں، تب یہ ظُلم بھی حرام ہے۔

• جب کوئی مُلک میں فساد برپا کریں، تب یہ ظُلم بھی حرام ہے۔

• جب کوئی کِسی مومِن کا قتل کردیں، تب بھی یہ ظُلم حرام ہے۔

• جب کوئی غیبت کریں، کِسی پاک دامن پر تہمت لگائے۔ تب یہ گُناہِ کبیرا ہے۔

• جب کوئی کِسی مومِن کا بھول سے قتل کر بیٹھے، تب یہ ظُلم گُناہِ کبیرا ہے۔

• جب کوئی آپسی دُشمنی میں کِسی سے جھگڑا کریں، یا جھگڑے کے لِیے اُکسائے، تب یہ ظُلم گُناہِ کبیرا ہے۔

اور بھی بہت سے ظُلم ہو سکتے ہیں، جِن کے لِیے فِطری طور پر اِنسان کا دِل جانتا ہے کہ یہ غلط ہے۔ وہ حرام یا گُناہِ کبیرا ہو سکتے ہیں۔

لَا تُشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ؕ اِنَّ الشِّرۡكَ لَـظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ‏ ﴿۱۳﴾

Q-31:13

ﷲ کے ساتھ شرک نہ کرو، بلاشبہ شرک بڑا ظلم ہے۔

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ‏ ﴿۲۱﴾

Q-06:21

اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے یا اُس کی آیات کو جھٹلائے؟ یقیناً ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔

اِنَّمَا السَّبِيۡلُ عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏ ﴿۴۲﴾

Q-42:42

إلزام تو صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَذَرُوۡا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿۲۷۸﴾ فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ۚ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَلَـكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ‌ ۚ لَا تَظۡلِمُوۡنَ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ‏ ﴿۲۷۹﴾

Q-02:278-279

اور اگر تم ایمان والے ہو تو جو سود میں سے باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو ﴿٢٧٨﴾ پھر اگر ایسا نہ کرو، تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کی خبر سن لو؛ اور اگر توبہ کر لو، تو تمہارے لیے تمہارا اصِل سرمایہ ہے۔ نہ تم ظلم کرو گے، نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ ﴿٢٧٩﴾

وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ عُدۡوَانًا وَّظُلۡمًا فَسَوۡفَ نُصۡلِيۡهِ نَارًا‌ ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا‏ ﴿۳۰﴾

Q-04:30

دوسروں کا مال ناحق کھاکر ظلم کرنے والوں کو ہم آگ میں جھونکیں گے، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔

۱۲۔ چوری کرنا حرام۔

خُدا نبی سے فرماتا ہے کہ: جو شِرک کریں، جو چوری کریں۔ زِنا کریں اُس کی بیعت قُبول نہ کریں۔ اور چوری کرنے والوں کے! خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہاتھ کاٹ ڈالو۔

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا جَآءَكَ الۡمُؤۡمِنٰتُ يُبَايِعۡنَكَ عَلٰٓى اَنۡ لَّا يُشۡرِكۡنَ بِاللّٰهِ شَيۡــًٔا وَّلَا يَسۡرِقۡنَ وَلَا يَزۡنِيۡنَ وَلَا يَعۡصِيۡنَكَ فِىۡ مَعۡرُوۡفٍ‌ فَبَايِعۡهُنَّ‏ ﴿۱۲﴾

Q-60:12

اے نبی! جب مؤمن عورتیں آپ کے پاس آئیں اور آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اور نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو ان کی بیعت قبول کر لیں۔

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَيۡدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَـكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ‏ ﴿۳۸﴾

Q-05:38

اور چور مرد اور چور عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ بدلہ ہے ان کے کیے کا۔ اللہ کی طرف سے عِبرت ناک سزا۔ اور اللہ زبردست، بڑی حکمت والا ہے۔

حلال روزی میں خُدا کی برکت۔

خدا کا حکم ہے: ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ زمین پر خدا کے قائم کردہ توازن کو بگاڑ کر فساد نہ کرو۔ خدا کی طرف سے عطا کی گئی نعمت - چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو - آپ کے لیے بہتر ہے، اگر آپ واقعی اس پر یقین رکھتے ہیں۔ اور اگر آپ اس کے حکموں پر عمل کرتے رہیں گے تو خدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ اپنے وفادار بندوں کے لیے آسمان و زمین سے برکتیں کھول دے گا۔

اَوۡفُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ‌ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿۸۵﴾ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۚ ﴿۸۶﴾

Q-11:85-86

ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح نہ بنو ﴿۸۵﴾ اللہ کی باقی رہ جانے والی نعمت (جو حلال اور جائز ہے) تمہارے لیے بہتر ہے۔ اگر تم ایمان والے ہو ﴿۸۶﴾۔

وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ‏ ﴿۹۶﴾

Q-07:96

اور اگر (ان) بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے، اور تقویٰ اختیار کرتے، تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔

۱۳۔ دین میں فرقہ پرستی شرک یعنی حرام۔

آج ہم مسلمان کہلانے والے لوگ! گروہوں، فرقوں اور مسلکوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی سنی، کوئی شیعہ، کوئی دیوبندی، کوئی بریلوی، کوئی اہلحدیث، کوئی سلفی، اور یہ فہرست بہت لمبی ہے۔ حالانکہ اللہ کا دین صرف ایک ہے، اور وہ ہے اسلام۔

اصلی مسلمان وہ ہے جو کسی فرقے میں یقین نہیں رکھتا ہو۔ بلکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور نبی کریم ﷺ پر نازِل ہوئی ہر بات کو بلاچون و چرا مانے۔

فرقہ پرستی اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے، اور اسے شرک کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اصلی مسلمان وہ ہے جو قرآن وَسُنّتُ اللّہ (لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ) پر چلتا ہے، نہ کہ کسی فرقے کے نام پر۔ اللّٰهَ تعالیٰ فرماتا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍؕ-اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۔ ﴿۱۵۹﴾

Q-06:159

جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقے بن گئے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ صرف اللہ کے سپرد ہے۔ پھر وہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔

مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَۙ‏ ﴿۳۱﴾ مِنَ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَعًا ‌ؕ كُلُّ حِزۡبٍۢ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ‏ ﴿۳۲﴾

Q-30:31-32

اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی سے ڈرتے ہوئے نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہو جاؤ۔ (31) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقے بنا لیے، ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے۔

غور کریں! یہاں اللہ نے واضح فرما دیا کہ جو لوگ دین میں فرقے اور گروہ بناتے ہیں، وہ دراصل مشرکین کی صف میں ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے دین میں وہ چیزیں شامل کر لیں جو اللہ نے نازل نہیں کیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم تمام فرقوں کے نام چھوڑ کر صرف "مسلمان" بن جائیں۔ ہمیں قرآن کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے، اور تمام نبیوں پر نازِل سنت اللّہ کو اپنانا چاہیے۔

اللہ ہمیں فرقہ پرستی کی اس لعنت اور تمام حرام کاموں سے بچائے اور ہمیں سچّا مسلمان بننے کی توفیق دے۔ آمین۔

************