رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
قِرابت داری میں حرام عمل۔
اللّٰهَ تعالیٰ نے نکاح کے لیے قرآنِ کریم میں ایسی حدود مقرر فرمائی ہیں جو اس مقدس رشتے کی حفاظت کرتی ہیں۔ یہی حدود ازدواجی زندگی میں عدل، سکون اور تقدس (پاکی) کو برقرار رکھتی ہیں، اور حیاتِ انسانی کے تسلسل کو بھی اہمیت بخشتی ہیں۔
جب انسان ان حدود سے تجاوز کرتا ہے تو شرم و حیا کا چراغ بجھنے لگتا ہے، اور وہ قِرابت داری میں حرام عمل کی طرف بڑھ جاتا ہے جو معاشرے کی پاکیزگی کو مجروح کرتا ہے۔ پھر معاشرے کا وہ مضبوط ڈھانچہ، جو اعتماد، اخلاق اور پاکیزگی پر قائم ہوتا ہے، رفتہ رفتہ منہدم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ان حدود کی پابندی ہی خاندان کی بقا اور معاشرتی استحکام کی حقیقی ضمانت ہے۔
۱ ۔کافِر و مُشرِک سے نِکاح حرام۔
مومن اور کافر یا مشرک (خواہ مرد ہو یا عورت) کے درمیان نکاح حرام ہے۔ خدا کے نزدیک کفر پر قائم رہنے والے نہ اس دنیا میں پاک ہیں اور نہ آخرت میں خدا ان کو پاک کرے گا۔
خُدا فرماتا ہے کہ: ایک مُشرِک یا کافِر (مرد یا عورت) سے مومِن (مرد یا عورت) کی شادی ہو، اِس سے بہتر ہے کہ کِسی مومِن غُلام (مرد یا عورت) سے شادی کر لی جاۓ۔ کیونکہ غیر مُسلِم کا راستہ جہنُّم کا راستہ ہے۔ جبکہ مومِن کا راستہ خُدا اور بہشت کا راستہ ہے۔
اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِۚ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِۚ اُولٰٓٮِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَؕ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴿۲۶﴾
Q-24:26ناپاک عورتیں ناپاک مَردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مَرد ناپاک عورتوں کے لِیے ہیں ۔ اور پاک عورتیں پاک مَردوں کے لِیے ہیں اور پاک مَرد پاک عورتوں کے لِیے ہیں۔ یہ (پاک لوگ) اُن کی باتوں سے پاک ہیں۔ ان کے لیے بَخشِش اور عِزّت والا رِزق ہے
وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّؕ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡۚ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا ؕ وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكُمۡؕ اُولٰٓٮِٕكَ يَدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِۚ وَاللّٰهُ يَدۡعُوۡٓا اِلَى الۡجَـنَّةِ وَالۡمَغۡفِرَةِ بِاِذۡنِهٖۚ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ ﴿۲۲۱﴾
Q-02:221اور مشرک عورتوں سے شادی نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مومن لونڈی مشرک خاتون سے بہتر ہے، چاہے وہ تمہیں کتنی ہی اچھی لگے۔ اور مشرک مردوں سے (مسلمان عورتوں کی) شادی نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مومن غلام مشرک آدمی سے بہتر ہے، چاہے وہ تمہیں کتنا ہی اچھا لگے۔ ایسے لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، جبکہ اللہ اپنی اجازت سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور وہ اپنی نشانیاں لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ سوچیں اور یاد رکھیں ﴿۲۲۱﴾
۲ ۔ وہ مسلمان عورتیں جن سے نکاح حرام ہے۔
اسلام میں نسب (خون) یا رضاعت (دودھ پلانے) کے رشتے سے منسلک خواتین، یا ان خواتین سے نکاح حرام ہے جو پہلے کسی کے آباء و اجداد کے نکاح میں رہ چکی ہوں۔ سوتیلی بیٹیوں اور ساس سے بھی نکاح ممنوع ہے۔ ان رشتوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
• وہ عورتیں جِن سے تمہارے باپ دادا نے شادی کی ہو نِکاح کے لِیے حرام۔
• مائیں، پُھوپھیا اور خالائیں نِکاح کے لِیے حرام۔
• بہن، بیٹیاں، بھائی کی بیٹی اور بہن کی بیٹی نِکاح کے لِیے حرام۔
• وہ مائیں (دودھ پِلانے والی عورتیں یا رِشتےدار) جِن کا تُم نے دودھ پِیا ہو۔ نِکاح کے لِیے حرام۔
• دودھ شریک بہنیں نِکاح کے لِیے حرام۔
• تمہاری بیویوں کی مائیں (ساس) نِکاح کے لِیے حرام۔
• تُمہاری بیوِیوں کی بہنیں، جبکہ دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرو، نِکاح کے لِیے حرام۔
• تُمہاری بیویوں کے ساتھ آئی بیٹیاں (سوتیلی بیٹیاں) نِکاح کے لِیے حرام۔
• تُمہارے اپنے بیٹوں کی بیویاں (بہو) نِکاح کے لِیے حرام۔
• شادی شُدہ عورتیں جو کِسی کے نِکاح میں ہوں نِکاح کے لِیے حرام۔
وَلَا تَنۡكِحُوۡا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقۡتًا ؕ وَسَآءَ سَبِيۡلًا ﴿۲۲﴾
حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ اُمَّهٰتُكُمۡ وَبَنٰتُكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ وَعَمّٰتُكُمۡ وَخٰلٰتُكُمۡ وَبَنٰتُ الۡاٰخِ وَبَنٰتُ الۡاُخۡتِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِىۡۤ اَرۡضَعۡنَكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآٮِٕكُمۡ وَرَبَآٮِٕبُكُمُ الّٰتِىۡ فِىۡ حُجُوۡرِكُمۡ مِّنۡ نِّسَآٮِٕكُمُ الّٰتِىۡ دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ ؗ فَاِنۡ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ ؗ وَحَلَاۤٮِٕلُ اَبۡنَآٮِٕكُمُ الَّذِيۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِكُمۡۙ وَاَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَيۡنَ الۡاُخۡتَيۡنِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۙ ﴿۲۳﴾
وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡۚ ﴿۲۴﴾ ۔
اور ان عورتوں سے شادی نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نے شادی کی ہو، سوائے اس کے جو پہلے ہو چکا۔ یہ بے حیائی، نفرت کی بات اور بہت برا طریقہ ہے ﴿۲۲﴾
تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھائی کی بیٹیاں، بہن کی بیٹیاں، اور وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، اور دودھ شریک بہنیں۔
اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور وہ لڑکیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں ان بیویوں سے جن سے تم نے صحبت کی ہو۔ اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو کوئی گناہ نہیں۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں، اور دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرنا، سوائے اس کے جو پہلے ہو چکا۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ﴿۲۳﴾
اور شادی شدہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، سوائے ان کے جو جنگی قیدی کے طور پر تمہارے قبضے میں آئیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے۔
۳ ۔ عورتوں سے زبردستی نِکاح حرام۔
عورتوں کو زبردستی اغوا کرنا، اور خود کو اُن کا مالک بنانا، یا زبردستی ان سے شادی کرنا حرام ہے۔
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَحِلُّ لَـكُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرۡهًا ؕ ﴿۱۹﴾ ۔
Q-04:19اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارِث بنو۔
**********