رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

حرام کھانے۔

اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر گندی اور ناپاک چیزیں حرام کی ہیں۔ مثلاً مردار کا گوشت، گوشت خور درندہ صِفت جانور یا پرندے کا گوشت، خِنزیر کا گوشت، خون اور جس پر ذِبح کرتے وقت اللّٰہ کا نام نہیں پڑھا جاے۔ یا کسی بُت کی طرف نامزد کر ذِبح کیا گیا ہو۔

اور وہ جسکو کسی دریندہ جانور نے مار دیا ہو، یا شکار کرتے وقت ذِبح کرنے سے قبل تیروں سے مر گیا ہو۔ یہ سب حرام کھانے ہیں۔

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُ بِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ فِسۡقٌ‌ ؕ ‏‏ ﴿۳﴾

Q-05:03

تم پر حرام کیا گیا مردار، خون، سُوّر کا گوشت، اور وہ (جانور) جسے اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا جائے، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مر جائے، یا مار کر ہلاک کیا جائے، یا بلندی سے گر کر مر جائے، یا سینگ مار کر مر جائے، اور وہ جو درندے نے کھایا ہو، سوائے اس کے جسے تم نے (شرعی طریقے سے) ذبح کر لیا۔ اور وہ جو بتوں کے لیے ذبح کیا جائے، اور یہ کہ تم تیروں سے قسمت آزمائی کرو، یہ سب گناہ ہے۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡکُمُ الۡمَيۡتَةَ وَالدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ‌ۚ ﴿۱۷۳﴾

Q-02:173

اللہ تعالیٰ نے تم پر صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں: مردار (مردہ جانور)، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت، اور وہ چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔

قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ‌‌ۚ ﴿۱۴۵﴾

Q-06:145

(اے پیغمبرؐ!) کہہ دیجیے: جو کچھ مجھ پر وحی کیا گیا ہے، اُس میں میں کسی کھانے والے پر کوئی بھی (کھانے کی) چیز حرام نہیں پاتا۔ سوائے اِس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا سور کا گوشت ہو — کیونکہ یہ ناپاک ہے — یا وہ (جانور) جو اللہ کے سِوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔

یہ حرام کھانے ذیل میں درج ہیں۔

شِکاری جانور اور پرندے۔

وہ چوپاۓ جانور یا پرِندے جو درِندوں کے زمرہ میں آتے ہوں۔ یعنی وہ چوپاۓ جانور یا پرِندے جو گوشت چیر پھاڑ کر یا نوچ-۲ کر کھاتے ہوں۔ اِن جانورکا گوشت کھانا حرام ہے۔

وہ سمُندری جانور جو درِندوں کے زمرے میں آتے ہوں، مثلاً شارک اور مگرمچھ جیسے درندوں کا گوشت بھی حرام ہے۔

شِکار ہوے جانور۔

وہ جانور یا پرندے جو درندوں کے ذریعہ مارے گئے ہوں، یا جنہیں مارنے کے بعد جزوی طور پر کھایا بھی گیا ہو، حرام ہیں۔

وہ چوپاۓ جانور یا پرِندے جِن کا شِکار کِیا گیا ہو، مگر ذِبح کرنے سے قبل مر جاۓ۔

مردار جانور۔

وہ چوپاۓ جانور یا پرِندے جوخود مر جائیں یا کِسی اور طرح مر جائیں۔ مثلاً وہ جو گلا گھٹنے سے مر جائے، یا مار کر ہلاک کیا جائے، یا بلندی سے گر کر مر جائے یا سینگ مارنے سے مر جائے، اور وہ جو درندے کے مارنے یا کھانے سے مر جاۓ، حرام ہیں۔ سوائے اس کے جسے تم نے اُن کو مرنے سے قبل شرعی طریقے سے ذبح کر لیا ہو۔

وہ جانور جو اللّٰہ کے نام پر ذبح نہ ہوں۔

وہ چوپاۓ جانور یا پرِندے جو غیر ﷲ کے نام پر ذِبح کِئیے گئے ہوں۔ حرام ہیں۔

وہ چوپاۓ جانور یا پرِندے جِن کو ذِبح تو کِیا، مگر ذِبح کرتے وقت ﷲ کا نام نہیں لِیا گیا ہو۔ حرام ہیں۔

وَلَا تَاۡكُلُوۡا مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ وَاِنَّهٗ لَفِسۡقٌ ؕ ﴿۱۲۱﴾

Q-06:121

اور اُس چِیز کو نہ کَھاؤ جِس پر اللہ کا نام نہ لِیا گیا ہو، اور یقیناً یہ نافرمانی ہے۔

خون۔

بہتا ہوا خون! یہاں تک کہ وہ خون بھی جو اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جانے کے وقت بہتا ہے—حرام ہے۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡکُمُ الۡمَيۡتَةَ وَالدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ‌ۚ ﴿۱۷۳﴾

Q-02:173

اللہ تعالیٰ نے تم پر صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں: مردار (مردہ جانور)، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت، اور وہ چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔

خِنزیر اور گِدھ۔

سور اور گدھ مردار خور جانور ہیں، یہ گندگی کھانے والی ناپاک جانور ہیں۔ پس ان کا گوشت بھی حرام ہے۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةَ وَالدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ‌ۚ ﴿۱۱۵﴾

Q-16:115

بے شک اللہ نے تم پر مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ (جانور) جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا جائے، حرام کیا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو چیزیں حرام فرمائی ہیں، وہ دراصل اُن کی دنیا وَآخرت کی بھلائی کے لیے ہیں۔ چنانچہ جس طرح حلال میں برکت اور طہارت ہے، اسی طرح حرام سے اجتناب میں ایمان کی سلامتی اور روحانی پاکیزگی ہے۔

پس اے مسلمانوں! اپنی خوراک کو حلال و طیب بناؤ، کیونکہ جو حرام کھاتا ہے، اُس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

زہریلے کیڑے یا جانور۔

وہ جانور یا رینگنے والے کیڑے جو فطرتاً اور جسمانی طور پر زہریلے ہوں، جیسے سانپ، بچھو، چھپکلی وغیرہ۔ یہ وہ مخلوقات ہیں جو انسانی صحت کے لیے مضر ہیں، پس حرام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زمین پر موجود پاک اور طیّب چیزیں کھاؤ، یعنی وہ چیزیں جو نہ صرف حلال ہوں بلکہ ان کے کھانے سے تمہارے مزاج، صحت اور جسمانی توازن میں کوئی منفی تبدیلی نہ آئے۔

اسی لیے قرآن نے زہریلے، نجس، گندی خوراک والے، یا انسان کی فطرت کے خلاف جانوروں کو حرام فرمایا ہے، تاکہ انسان کا جسم پاک، دل صاف اور مزاج معتدل رہے۔

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوۡا مِمَّا فِى الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿۱۶۸﴾

Q-02:168

اے لوگو! زمین پر جو کچھ حلال اور پاک ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

**********