رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

شراب وَنشہ حرام۔

اسلام میں شراب وَنشہ حرام ہے۔ اللّٰہ فرماتا ہے! جِن چیزوں کو کھانے یا پینے سے عقل جاتی رہے۔ حرام ہیں۔ قُرآن میں الْخَمْرِ لفظ اِستعمال کِیا گیا ہے۔ جِس کے معنی ہیں۔ شراب یا وہ نشہ آور چیزیں جو عقل کو ڈھانپ لیں۔

خُدا نے شراب (نشہ) کو تدریجاً تیسرے حُکم میں کُلّی طور پر حرام قرار دیا۔

پہلا حکم۔

پہلے حکم میں کہا گیا کہ شراب کے "نقصان" اس کے "فائد" سے کہیں زیادہ ہیں۔ درحقیقت شراب یا نشہ انسان کو تھوڑے وقت کے لیے ذہنی سکون فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے مستقل نقصانات کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ اس سے خاندان میں انتشار پیدا ہوتا ہے، دین، عقل اور اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کے ذکر اور نماز سے غافل ہو جاتا ہے۔ انسان معاشرے میں اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔

يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ‌ؕ قُلۡ فِيۡهِمَآ اِثۡمٌ کَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ؗ وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا ؕ ﴿۲۱۹﴾

Q-02:219

لوگ آپ سے شراب اور قِمار (جُوا) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: ان دونوں میں سخت بُرائی ہے اور کچھ (دنیوی) فائدے بھی ہیں، تاہم ان کی بُرائی اُن کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔

دوسرا حکم۔

دوسرے حکم میں کہا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ کیونکہ نشے کی حالت میں انسان پاک نہیں رہتا۔ اور خدا ناپاک لوگوں کو پسند نہیں کرتا اور نہ اُن کی عبادت قبول کرتا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ حرام کا لقمہ کھانے والے کی نماز چالیس راتوں تک قبول نہیں ہوتی۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ ﴿۴۳﴾

Q-04:43

اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے پاس نہ جاؤ، یہاں تک کہ تم جان لو کہ کیا کہہ رہے ہو۔

تیسرا حکم۔

آخیر تیسرے حکم میں نشہ کی کُلِّی حُرمت نازل ہوئی۔ اللّٰہ اس حکم میں نشے کو شیطان کا کام فرماتا ہے۔ اور حکم دیتا ہے کہ تم ہر اس چیز سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو جاؤ جو تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کر دے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿۹۰﴾ اِنَّمَا يُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّوۡقِعَ بَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ فِى الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ‏ ﴿۹۱﴾

Q-05:90-91

اے ایمان والو! بے شک شراب / نشہ، جُوا، بُت اور پاسوں کے تیرناپاک ہیں، یہ شیطان کے کام ہیں۔ سو ان سے بالکل بچو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (۹۰) شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جُوے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذِکر اور نماز سے روک دے۔ پس کیا تم (اب بھی) باز نہ آؤ گے؟ ﴿۹۱﴾

شراب اور ہر وہ چیز جو عقل کو زائل کرے، اللہ تعالیٰ نے صراحتاً حرام قرار دی ہے، کیونکہ عقل ہی وہ نعمت ہے جس سے انسان اور حیوان میں تمیز ہوتی ہے۔ پس نشہ آور چیزوں سے دور رہو، کیونکہ یہ شیطان کے کام ہیں، اور ان کا انجام دنیا میں بغض و عداوت اور آخرت میں رب کی رحمت سے محرومی ہے۔

**********