رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
گناہ کبیرا۔
بعض اعمال انسان کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں اور بالآخر اس کی سماجی اور خاندانی زندگی، دونوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے کاموں کو گناہ کبیرا میں شمار کیا ہے۔ اگرچہ یہ اعمال ایمان کو اس طرح مجروح نہیں کرتے جس طرح صریح کفر یا حرام افعال کرتے ہیں، لیکن یہ یقیناً ایمان کو کمزور کر دیتے ہیں۔ گناہ کبیرا کے مرتکب افراد دنیا میں اپنا وقار کھو بیٹھتے ہیں۔ اور آخرت میں اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے مجرموں کی صف میں کھڑے ہونگے۔
۱۔ تہمت۔
خُصوصاً پاکدامن عورتوں یا مردوں پر زِنا کا جھوٹا اِلزام لگانا تہمت کہلاتا ہے۔ قرآن میں تہمت کی شدید مذمّت کی گئی ہے۔ خُدا فرماتا ہے کہ جِس بات کا تُم کو عِلم نہیں، اُس کے پیچھے مت پڑو۔
قران میں جھوٹی تہمت کے لِیے شدید سزا مقرر کی گئی ہے، جو اس کی حُرمت کی شِدّت کو ظاہر کرتی ہے۔ خدا فرماتا ہے! اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر بے بنیاد اِلزام تراشتے ہیں، اور پھر چار گواہ بھی پیش نہیں کرتے، تو ایسے لوگوں کو اس کے لِیے ۸۰ کوڑوں کی سزا دو، اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ یہی لوگ نافرمان ہیں۔
وَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۙ ﴿۱﴾
Q-104:01ہر اس شخص کے لیے تباہی ہے جو عیب جوئی کرنے والا اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے والا ہو۔
وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجۡلِدُوۡهُمۡ ثَمٰنِيۡنَ جَلۡدَةً وَّلَا تَقۡبَلُوۡا لَهُمۡ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۙ ﴿۴﴾
Q-24:04اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر بے بنیاد اِلزام تراشتے ہیں، اور پھر چار گواہ بھی پیش نہیں کرتے، تو ایسے لوگوں کو اس کے لِیے ۸۰ کوڑوں کی سزا دو، اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ یہی لوگ نافرمان ہیں۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
Q-24:19بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اِیمان والوں کے بارے میں بے حیائی کی باتیں پھیلائی جائیں، اُن کے لِیے دُنیا اور آخرت دونوں میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جبکہ تم (اس کی حقیقت) نہیں جانتے۔
وَلَا تَقۡفُ مَا لَـيۡسَ لَـكَ بِهٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۤٮِٕكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾
Q-17:36اور اس چیز کے پیچھے نہ لگو، جِس کا خُود تُمہیں عِلم نہیں۔ یقیناً کان، آنکھ اور دل اِن سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
۲۔ بہتان باندھنا۔
بہتان ایک ایسا فعل ہے جس میں کوئی شخص جرم یا غلطی کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر کسی دوسرے بے گناہ شخص پر اس کا جھوٹا الزام عائد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرتا ہے۔ آخِرت میں اس گناہ کا بوجھ اُٹھانا پڑیگا۔
وَمَنۡ يَّكۡسِبۡ خَطِيۡٓـــَٔةً اَوۡ اِثۡمًا ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ بَرِيۡٓــًٔـا فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا ﴿۱۱۲﴾
Q-04:112اگر کوئی جرم یا خطا کرے اور پھر اُسے بےقصور پر ڈال دے، تو اس نے بہتان تراشا اور بہت بڑے گُناہ کا مُرتکِب ہوا۔
وَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۙ ﴿۱﴾
Q-104:01ہر اس شخص کے لیے تباہی ہے جو عیب جوئی کرنے والا اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے والا ہو۔
۳۔ غیبت (چغلی) کرنا۔
کسی مومِن کا جِسمانی، اخلاقی، مالی یا اولاد کے بارے میں ایسا ذکر کرنا جو اُسے ناپسند ہو۔ خواہ وہ حقیقت ہی ہو یا مُعاشرے میں بُرائی کی وجہ بنے۔ یہ غیبت ہے۔ خدا کی نظر میں غیبت کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جو اپنے ہی مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہو۔ خدا اس سنگین گناہ کی سزا دنیا میں رسوائی کی صورت میں دیتا ہے، اور آخرت میں دردناک عذاب اس کا منتظر ہے۔
وَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۙ ﴿۱﴾
Q-104:01ہر اس شخص کے لیے تباہی ہے جو عیب جوئی کرنے والا اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے والا ہو۔
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا كَثِيۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ؗ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا وَلَا يَغۡتَبْ بَّعۡضُكُمۡ بَعۡضًا ؕ اَ يُحِبُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ يَّاۡكُلَ لَحۡمَ اَخِيۡهِ مَيۡتًا فَكَرِهۡتُمُوۡهُ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيۡمٌ ﴿۱۲﴾
Q-49:12اے ایمان والو! بہت سارا شک کرنے سے بچو، کیونکہ بعض شک گناہ ہیں۔ تجسس نہ کرو اور ایک دوسرے کی پس پشت غیبت نہ کیا کرو۔ کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مردہ گوشت کھانا پسند کرے گا؟ تم اسے ناپسند کرتے ہو! پس اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم والا ہے۔
۴۔ جُھوٹ بولنا۔
جھوٹ ایک ایسا انسانی رجحان ہے جس کی جڑیں معاشرے میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔ اس کے اثرات نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی تباہ کن ہیں۔ یہ اس وقت انتہا کو پہنچ جاتا ہے جب لوگ اپنے جھوٹ میں خدا کی قسم کھاتے ہیں- گویا خدا کا نام لینے سے انہیں دھوکہ دینے کا لائسنس مل جاتا ہے۔ بیشک یہ لوگ خدا کے منکر ہیں۔ یہ لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی میں تھوڑا فائدہ ضرور حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن آخرت میں دردناک عذاب کے مستحق ہیں۔
خدا فرماتا ہے! جھوٹ بولنے والے آدمی پر شیاطین نازل ہوتے رہتے ہیں۔
وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَـتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّـتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَؕ ﴿۱۱۶﴾ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴿۱۱۷﴾
Q-16:116-117اور اپنی زبانوں سے جھوٹ مت گھڑو کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام۔ کہ تم اللہ کے نام پر جھوٹ نہ باندھو؛ بےشک جو اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ (۱۱۶) یہ (لوگ جُھوٹ بولکر دُنیا کا) تھوڑا سا فائدہ حاصِل کرتے ہیں، مگر اِن کے لِیے بڑا دردناک عذاب ہے۔ ﴿۱۱۷﴾
هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ عَلٰى مَنۡ تَنَزَّلُ الشَّيٰـطِيۡنُؕ ﴿۲۲۱﴾ تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍۙ ﴿۲۲۲﴾
Q-26:221-222کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کن پر نازل ہوتے ہیں؟ ﴿۲۲۱﴾ یہ ہر جھوٹے، گناہگار آدمی پر نازل ہوتے ہیں ﴿۲۲۲﴾۔
۵۔ شاعری۔
ایسی شاعری جو گمراہی، فحاشی، بے حیائی کو فروغ دیتی ہے، یا اسلامی تعلیمات کی مخالفت کرتی ہے- یا جو عقیدہ کو خراب کرتی ہے اور شک پیدا کرتی ہے- دردناک عذاب کا باعث بنتی ہے۔
خدا شاعروں پر لعنت ڈالتا ہے؛ نتیجتاً، وہ اکثر وادیوں میں بے مقصد بھٹکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے گھروں میں اکثر کھانے پینے کا سامان نہیں ہوتا اور عمدہ کھانے سے لطف اندوز ہونے کے لیے انہیں سماجی تقریبات کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مختصراً یہ کہ شاعری بدقسمتی سے بھرا ہوا مشغلہ ہے، جس میں شاعر خود ان باتوں پر عمل کرنے سے قاصر رہتا ہے جن کا وہ درس دیتا ہے۔
يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَؕ ﴿۲۲۳﴾ وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَؕ ﴿۲۲۴﴾ اَلَمۡ تَرَ اَنَّهُمۡ فِىۡ كُلِّ وَادٍ يَّهِيۡمُوۡنَۙ ﴿۲۲۵﴾ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَۙ ﴿۲۲۶﴾
Q-26:223-226وہ ان کو سُنتے ہیں، اور ان میں اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ ﴿۲۲۳﴾ اور (ایسے) شاعروں کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں، جو گمراہ ہیں۔ ﴿۲۲۴﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ: یہ (شاعِر) ہر وادی میں آوارہ پھرتے ہیں؟ ﴿۲۲۵﴾ اور یہ جو کہتے ہیں، وہ خود نہیں کرتے۔ ﴿۲۲۶﴾
۶۔ رِشوت دینا ولینا۔
اِسلام میں اِنصاف کو خریدنے اور حاکِموں کو رِشوت دینے کی مُمانِعت ہے۔ رِشوت دینا اور لینا دونوں گُناہ کے کام ہیں۔
وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَتُدۡلُوۡا بِهَآ اِلَى الۡحُـکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِيۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾
Q-02:188اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق مت کھاؤ اور نہ ہی انہیں حاکموں تک پہنچاؤ، (بطور رشوت) تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے ساتھ کھا جاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔
**********