رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

حرام عمل سے بچنے والا جنتی۔

بیشک حرام عمل سے بچنے والا جنتی ہے۔ خُدا فرمااتا ہے کہ! جو اِنسان خُدا کے ضابطوں کو قائم رکھیگا۔ حرام کاموں اور کبیرا گُناہوں سے دور رہیگا۔ قیامت کے دِن خُدا اُس کے دوسرے چھوٹے گُناہوں کو معاف کر دیگا۔ اور جنّت میں جگہ عطا کریگا۔ پس خدا کے اس حکم سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ: جنّت میں داخل ہونے کی بنیادی شرط "سُنّتُ اللّہ" کے بعد حرام عمل اور گُناہ کبیرا سے اجتناب ہے۔

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا‏ ﴿۳۱﴾

Q-04:31

"اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہاری دوسری خطائیں معاف کر دیں گے اور تمہیں جنت میں باعزت مقام دیں گے۔"

غصّہ: گُناہ کبیرا کا دروازہ۔

بلاشبہ، غصہ ایک ایسی انسانی صفت ہے جو عقل و فہم کی صلاحیت کو تباہ کر دیتی ہے اور انتقام کی خواہش میں انسان کو سنگین گناہوں کا ارتکاب کرنے پر آمادہ کرتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ خدا ہمیں غصے کی حالت میں بھی معافی و درگزر سے کام لینے کا حکم دیتا ہے۔

وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓٮِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ‌ۚ‏ ﴿۳۷﴾

Q-42:37

"اور وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب غصے میں آتے ہیں تو آسانی سے معاف کر دیتے ہیں۔"

انسان پاک روح اور مٹّی کا مرکب۔

خدا نے انسان کو اوّل مٹّی سے پیدا کیا، پھر اس میں اپنی مبارک روح پھونکی۔ پھر اس کی نسل کو جسم سے نچوڑے ہوے حقیر پانی سے پیدا کیا۔ یعنی انسانی جسم پاک روح اور مٹّی یا منی جیسی نجس کا مرکب ہے۔

وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ‌ۚ‏ ﴿۷﴾ ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ‌ۚ‏ ﴿۸﴾ ثُمَّ سَوّٰٮهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ۔ ﴿۹﴾

Q-32:07-09

اور اس نے انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی۔ (7) پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے نچوڑ سے بنائی۔ (8) پھر اسے درست حالت میں بنایا اور اس میں اپنی روح پھونکی۔ (9)

انسان برائی کا پتلا۔

خدا جانتا ہے کہ: اس کے نیک بندے اگرچہ بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی سے بچ جائیں، تب بھی جانے انجانے چھوٹی موٹی لغزشیں ہو جائنگی۔ پس خدا ان لغزشوں کو معاف کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ لیکن انسان کو کبھی بھی اپنی پاک بازی پر تکبّر نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ خدا سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ اور اپنے ربّ کے حضور سجدہ گو رہکر مغفرت اور پناہ مانگتے رہنا چاہیۓ۔

اَلَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓٮِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَةِ‌ؕ هُوَ اَعۡلَمُ بِكُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَاِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّةٌ فِىۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰتِكُمۡ‌ۚ فَلَا تُزَكُّوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ‌ؕ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى‏ ﴿۳۲﴾

Q-53:32

جو لوگ بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔ سوائے معمولی لغزشوں کے۔ [تو وہ پائیں گے کہ] یقیناً آپ کا رب وسیع مغفرت کا مالک ہے۔ وہ تمہیں خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین (بچے) تھے۔ لہٰذا اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو؛ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون درحقیقت پرہیزگار ہے۔

ایک مومن کا کمال اس بات میں نہیں: کہ اس سے بلکل گناہ نہ ہوں، بلکہ مومِن کا کمال اس بات میں ہے کہ: وہ جان بوجھ کر گناہ پر اصرار نہ کرے۔ اور اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے، تو فوراً یادِ الٰہی اور سچی توبہ استغفار پر آمادہ ہو جاۓ۔ اور دوبارہ اس گناہ کو نہ کرنے کا خود سے وعدہ کرے۔

وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِهِمۡࣞ وَمَنۡ يَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰهُࣞ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿۱۳۵﴾

Q-03:35

اور وہ لوگ جو: کبھی کوئی بے حیائی کرتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کربیٹھتے ہیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ معاف کر سکتا ہے؟ اور وہ جانتے بوجھتے اپنے گناہ پر اڑے نہیں رہتے۔

انسان کی فطری فطرت۔

خدا تمام انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ مخلص رہیں اور سیدھے راستے کی پیروی کریں۔ بالکل اسی طرح جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے "حنیف" یعنی حق کے راستے کی پیروی کی۔ کیونکہ خدا نے انسان کو اسی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ ابتدا سے لے کر انتہا تک، خدا کی مقرر کردہ یہ فطرت نہ تو تبدیل ہوئی ہے اور نہ ہی کبھی تبدیل ہوگی۔

خدا اپنی ذات کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے ہر انسان کے دل میں اس کی بدی اور اس کی نیکی کا شعور ودیعت کیا ہے۔ اب یہ اس شخص کے ضمیر پر منحصر ہے کہ وہ کامیابی حاصل کرتا ہے یا گناہ کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، جب کوئی شخص ناانصافی کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے، تو اس کا دل اور ضمیر اسے اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے، وہ درست ہے یا غلط۔

فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا ‌ؕ فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ‌ؕ لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَـلۡقِ اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۙ‏ ﴿۳۰﴾

Q-30:30

پس تم دین حنیف یعنی حق کے راستے پر ثابت قدم رہو۔ یہ وہ فطرت ہے جس میں اللہ نے انسانیت کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت (راستہ حق) میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے۔

وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮهَا ۙ‏ ﴿۷﴾ فَاَلۡهَمَهَا فُجُوۡرَهَا وَتَقۡوٰٮهَا ۙ‏ ﴿۸﴾ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَكّٰٮهَا ۙ‏ ﴿۹﴾ وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮهَا ؕ‏ ﴿۱۰﴾

Q-91:07-10

اور قسم ہے نفس کی اور اُس ذات کی جس نے اسے درست بنایا، (7) پھر اُسے اُس کی بدکاری اور اُس کی پرہیزگاری کا شعور عطا کیا— (8) یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے اُسے پاک کر لیا، (9) اور یقیناً وہ ناکام ہوا جس نے اُسے آلودہ کر دیا۔ (10)

**********