رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

ایمان۔

ایمان دل کا وہ پاکیزہ اور مخلصانہ یقین ہے جو اللہ کی وحدانیت اور اس کی آیات پر کامل تسلیم کے ساتھ اس کے فرشتوں، اس کی نازل کردہ کتابوں، اس کے پیغمبروں اور رسولوں، اور یومِ آخرت (جزا و سزا کے دن) پر مُخلِص عقیدہ رکھتا ہے۔ یہ محض معلومات نہیں، بلکہ اُس کی روح کا سکون اور دل کا اطمینان ہو۔

 "اسلام کی راہ پر اٹھایا جانے والا پہلا قدم 'ایمان' ہے؛ اور یہی وہ عنصر ہے جو سچی وابستگی کے عہد میں قدرتی باطنی استقامت کی عکاسی کرتا ہے۔"

 یہ وہ کلید ہے جو ظاہری اقرار کو باطنی یقین میں بدل دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی کا دارومدار چہرے کو مشرق یا مغرب کی طرف موڑنے پر نہیں، بلکہ اس پر ہے کہ انسان کس عقیدے کا حامل ہے۔ نماز کا قبلہ چاہے مسجدِ اقصٰی ہو یا مسجدِ حرام — یہ صورتیں تو ہیں، مگر اصل نیکی تو اس شخص کے لیے ہے جو مخلص دل سے اللہ، یومِ آخرت، فرشتوں، کتابوں اور تمام انبیاء پر ایمان رکھتا ہو۔

لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓٮِٕکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ‌ۚ ﴿۱۷۷﴾

Q-02:177

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ، یومِ آخرت، فرشتوں، مقدس کتابوں اور انبیاء پر ایمان رکھتا ہو۔

زبانی دعویٰ اور حقیقی ایمان۔

صرف زبانی اقرار کبھی بھی حقیقی ایمان کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ اسلام میں داخل ہونے والا ہر شخص محض اپنے دعوے کے باوجود سچا مومن نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص محض دنیاوی مصلحت کی بنا پر اسلام قبول کر سکتا ہے، یا مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اس کے دل میں اللہ، اس کی نشانیوں، روزِ قیامت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور انبیاء کے بارے میں حقیقی یقین و ایمان کا فقدان ہو سکتا ہے؛ اللّٰہ کے نضدیق یہ افراد اہل ایمان میں شمار نہیں ہیں، خواہ انہیں معاشرہ اور زمین میں مسلمان کہا جائے۔

قرآن کے مطابق، ایمان محض کوئی مذہبی شناخت، محض زبانی اقرار یا ورثے میں ملنے والی روحانیت نہیں ہے؛ بلکہ ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ شروع ہی سے ایمان اور اس کی پختگی کے لیے جدوجہد کرے۔ یہی وجہ ہے کہ روزِ قیامت نہ تو باپ سے اس کے بیٹے کے اعمال کے بارے میں بازپرس کی جائے گی اور نہ ہی بیٹے سے اس کے باپ کے اعمال کے بارے میں۔ ایمان، حق کو بلا جھجھک تسلیم کرنے اور اللہ اور اس کے احکامات کی اطاعت کرنے کا نام ہے؛ یہ ایک ایسی باطنی کیفیت ہے جو انسان کے خیالات، کردار، اخلاق اور اعمال میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ وہ نور ہے جو بندے کے ہر عمل کو منور کرتا ہے۔

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا‌ ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔــا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿۱۴﴾

Q-49:14

بدوی کہتے ہیں: "ہم ایمان لے آئے ہیں۔" کہہ دیجیے: "تم (ابھی تک) ایمان نہیں لائے؛ بلکہ یوں کہو کہ 'ہم اِسلام لے آئے ہیں'، کیونکہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال (کے اجر) میں سے ذرا بھی کمی نہیں کرے گا۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"

مذکورہ آیت کا دوسرا حصہ ایمان لانے کی بشارت بھی دیتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہیں مگر ابھی ایمان کی دولت سے محروم ہیں، اگر وہ راہِ حق کو اپنا لیں، اللہ اور اس کے احکام کی اطاعت کریں، تو ان کے لیے مغفرت کے دروازے کھلے ہیں۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

یہاں ایک اہم حقیقت آشکار ہوتی ہے: "انسان کسی معاشرتی پس منظر یا ظاہری نسبت کی بنا پر مسلمان کہلا تو سکتا ہے، لیکن ایمان تو دل میں اترنے والی وہ کیفیّت ہے جو صرف اللہ کی توفیق سے اُس وقت حاصل ہوتی ہے، جب انسان رُجوع کرتا ہے"۔ ایمان وہ جوہر ہے جو انسان کو حقیقی مومن بناتا ہے۔

ظاہرِ اسلام، باطنِ ایمان۔

ایمان، اسلام اور مسلم کوئی الگ الگ چیزیں نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ جب کوئی بندہ اللہ اور اس کی آیات پر "ایمان" لاتا ہے، اسی ساعت وہ "اسلام" میں داخل ہوتا ہے، اور جو اسلام میں داخل ہوا، وہ "مسلم" ہے۔ یہ تینوں ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں، ایک دوسرے سے جڑی ہوئیں۔

"سماجی نقطہ نظر سے، "اسلام" سے مراد ظاہری عمل یا ہیئت ہے، جبکہ "ایمان" دل کی باطنی کیفیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایمان وہ بنیادی عنصر ہے جو "دل کے سچے خلوص اور استقامت" کا مظہر ہے؛ یہی وہ کلیدی جزو ہے جو زبان سے کیے گئے اقرارِ ایمان کو حقیقی معنی اور اہمیت عطا کرتا ہے۔ بلاشبہ، جو شخص سچے ایمان کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے، وہی حقیقی مسلمان ہے"۔

ایمان کے درجات۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو اُن کے اعمال کے مطابق مختلف درجات میں تقسیم کیا ہے۔ یہ درجات کسی دنیوی جاہ و جلال یا نسب و دولت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خالص عمل اور اخلاص کی کسوٹی پر طے پاتے ہیں۔

اس فانی دنیا میں کوئی بادشاہ ہے تو کوئی فقیر! مگر اللہ کے ہاں سب یکساں ہیں۔ اس کی بارگاہ میں نہ تخت و تاج کی قدر ہے، نہ مال و دولت کی اہمیت۔ اللہ تو صرف دلوں کی کیفیات اور اعمال کی نیکی کو دیکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے اجر کا وعدہ فرماتا ہے جو خلوصِ دل سے اُس پر، اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اُس کی نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں، اور جو اِس ایمان کی روشنی میں اُس کے احکامات کے مطابق نیک اعمال بجا لاتے ہیں۔ یہی ایمان اللہ کا قرب حاصل کرنے کی بنیاد ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی رہنمائی فرماتا ہے اور انہیں ’مومن‘ کے درجے سے سرفراز کرتا ہے؛ اور ہر مومن ’جنتِ عدن‘ (جنت کے باغات) کا وارث ہے۔

تمام اہل ایمان کے درمیان ایک خاص اور اعلیٰ ترین مقام بھی ہے: اور وہ ہے 'تقویٰ' (یعنی اللہ کا خوف اور اس کی دائمی یاد) کا مقام۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ درحقیقت، یہی وہ نیک لوگ ہیں جو اپنے جذبہِ عقیدت، عدل و انصاف کے رویے اور معاشرے میں مثالی کردار کے ذریعے اللہ کے نزدیک فضیلت پاتے ہیں۔

جب کوئی مومن بندہ سچے ایمان کے ساتھ انفرادی عبادات (نماز، حمد و ثنا اور تسبیح) اور اجتماعی عبادات (زکوٰۃ اور فلاحی امداد) کے ذریعے قلبی سکون کا طالب ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے مزید رہنمائی (ہدایت) عطا فرماتا ہے؛ یوں روحانی درجات میں بلندی حاصل کر کے وہ 'جنت الفردوس' اور 'جنتِ نعیم' کا وارث بن جاتا ہے۔

اُنْظُرۡ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ ؕ وَلَـلۡاٰخِرَةُ اَكۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا‏ ﴿۲۱﴾

Q-17:21

دیکھو ہم نے کس طرح ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اور آخرت میں [اجر کے مطابق] بڑے درجات ہیں۔ اور بڑی ترجیحات بھی ہیں۔

وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا‌ ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿۱۳۲﴾

Q-06:132

اور ہر ایک کے لیے اس کے اعمال کے مطابق [اجر و سزا کے] درجے ہیں۔ اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‌ۙ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ‏ ﴿۹﴾

Q-05:09

اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے: ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔

وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓٮِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ نَقِيۡرًا‏ ﴿۱۲۴﴾

Q-04:124

اور جو کوئی بھی نیک اعمال کرے گا۔ خواہ مرد ہو یا عورت، اس حال میں کہ وہ صاحبِ ایمان بھی ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏ ﴿۱۳﴾

Q-49:13

بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو تقویٰ اختیار کرتا ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ‏ ﴿۷﴾

Q-09:07

بلاشبہ اللہ پرہیزگاروں (متّقین) سے محبت کرتا ہے۔

یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ "مسلم" محض ایک سادہ سا لفظ نہیں ہے، بلکہ یہ بے شمار ایسے پوشیدہ روحانی مقامات اور درجات کا احاطہ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے انسان کی قربت کی داستان بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے پانچ مخصوص مقامات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بار بار نمایاں کیا ہے۔ تاہم، اعمال کی بنیاد پر ان پانچ مقامات کے اندر مزید کتنے اور درجات موجود ہیں، یہ صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

اوّل:- مسلم۔

جو شخص محض ایمان کا دعویٰ کرتا ہے، وہ بھی مسلمان ہے۔ جس نے زبان سے تو کلمہ کہا، مگر دل میں ایمان کی حرارت ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن اگر ان کا اقرار سچّا ہے، تو جن آیات پر ایمان لایا ہے اُن پر عمل بھی کریگا۔ پس ایمان کے ساتھ عمل ہی وہ کُنجی ہے، جس کی بدولت اللّٰہ ھدایت (رہنمائی) فرماتا ہے۔

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا‌ ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔــا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿۱۴﴾

Q-49:14

بدوی کہتے ہیں: "ہم ایمان لے آئے ہیں۔" کہہ دیجیے: "تم (ابھی تک) ایمان نہیں لائے؛ بلکہ یوں کہو کہ 'ہم اِسلام لے آئے ہیں'، کیونکہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال (کے اجر) میں سے ذرا بھی کمی نہیں کرے گا۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهۡدِيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِاِيۡمَانِهِمۡ‌ۚ ﴿۹﴾

Q-10:09

بلاشبہ، جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ان کا رب ان کے ایمان کی بدولت ان کو رہنمائی (ھدایت) فرماتا ہے۔

دوم:- مومن۔

یہ وہ مسلمان ہیں جنہوں نے ہدایت پا لی ہے اور جو جنتِ عدن کے وارث ہیں۔ اللہ کی عبادت اور اس کے احکامات کی پیروی کی بدولت، اللہ اِن مومن بندوں کو تقویٰ کے مقام کی جانب مزید رہنمائی عطا فرماتا ہے۔ روزِ قیامت اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہر مسلمان کے لیے کم از کم ’مومن‘ کا درجہ حاصل کرنا لازمی ہے۔

وَيَزِيۡدُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا هُدًى‌ؕ ﴿۷۶﴾

Q-19:76

اور جو لوگ ہدایت کی پیروی کرتے ہیں، اللہ ان کی ہدایت میں اضافہ فرماتا ہے۔

سوم:- متقی۔

یہ وہ مسلم ہیں جو ھدایت کے ساتھ تقویٰ کی بلندی پر فائز ہوے۔ اللّٰہ تعالیٰ اِن متّقیوں کے لیے جنّتُ الفردوس (جنّت عدن کا بلند ترین مقام) کی بشارت دیتا ہے۔ اور اپنے ان مخلص بندوں کی 'امامُ المتّقین' (اہلِ تقویٰ کے پیشوا) کے مقام کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔

وَالَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا زَادَهُمۡ هُدًى وَّاٰتٰٮهُمۡ تَقۡوٰٮهُمۡ‏ ﴿۱۷﴾

Q-47:17

رہے وہ لوگ جنہوں نے ھِدایت پا لی ہے، تو وہ انہیں ھِدایت میں اور بڑھاتا ہے اور انہیں ان کی تقوٰی (پرہیزگاری) عطا کرتا ہے۔

چہارم:- امامُ المتّقین۔

قران میں اللّٰہ متّقیؤں کے لیے جنّت نعیم کی بشارت دیتا ہے۔ بلاشبہ، یہ خدا سے ڈرنے والوں کے پیشوا: یعنی امامُ المتّقین ہیں۔ جو اللّٰہ کے نضدیق تقوٰی، صبر اور اِنصاف میں، اور معاشرے میں اپنے حُسنِ اخلاق سے سبقت لے جانے والے ہونگے۔ اللّٰہ تعالٰی اپنے اِن سابق اور امام بندوں کو جنت النّعیم میں داخل کریگا، کیونکہ جنّت نعیم اللّٰہ کے برگزیدہ اور خاص امام بندوں [رسولوں، انۢبیاء، سدیقین، شہداء اور صالحین] کے لیے مخصوص ہے۔

اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ‏ ﴿۳۴﴾

Q-68:34

بلاشبہ، متّقیوں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنّت ہیں۔

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓٮِٕكَ رَفِيۡقًا ؕ‏ ﴿۶۹﴾

Q-04:69

اور جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا فضل فرمایا ہے: یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔

پنجم:- مقرب۔

یہ اللہ کے وہ برگزیدہ بندے ہیں جنہیں اس نے اپنی طرف سے علم سے نوازا ہے؛ یہ وہ انبیاء اور رسول ہیں جو اللہ کے حکم سے خوشخبری اور تنبیہ پہنچاتے ہیں، آخرت میں بھی اللہ کے یہ بندے؛ جو اُس کے مقرب ہیں — اُس کی قربت والی جنت کے وارث ہوں گے: یعنی *جنّتِ نعیم* (جسے *جنّتِ مأویٰ* بھی کہا جاتا ہے)۔

وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَۚ ۙ ﴿۱۰﴾ اُولٰٓٮِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ‌ۚ‏ ﴿۱۱﴾ فِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ‏ ﴿۱۲﴾

Q-56:10-12

اور سب سے آگے رہنے والے، وہی تو سب سے آگے رہنے والے ہیں۔ (10) یہی وہ لوگ ہیں جو [اللہ کے] مقرب بنائے گئے ہیں۔ (11) نعمتوں والی جنّت میں ہونگے (12)

اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنۡهُ اسۡمُهُ الۡمَسِيۡحُ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ وَجِيۡهًا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَۙ‏ ﴿۴۵﴾

Q-03:45

جب فرشتوں نے کہا: "اے مریم! یقیناً اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ، اِبنِ مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت میں باعزت ہوگا اور (اللہ کے) مقربین میں سے ہوگا۔"

**********