رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

مومن

”مومن وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر سے لرز اٹھتے ہیں، جن کا ایمان اس وقت بڑھ جاتا ہے جب انہیں اس کی آیات سنائی جاتی ہیں، اور جو صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یہی سچے مومن ہیں“۔

دینِ ابراہیمی کی بنیاد وحدانیت اللہ، روزِ آخرت اور اللہ کی نازل کردہ آیات پر ایمان پر استوار ہے۔ اس ایمان کے ساتھ نیک اعمال کا ہونا بھی لازمی ہے۔ چنانچہ اللہ انہیں ہدایت سے نوازتا ہے جو ایمان اور نیک اعمال، دونوں کے حامل ہوں؛ اور قرآنی اصطلاح میں، ہدایت یافتہ لوگوں کو ہی 'مومن' کہا جاتا ہے۔ آخرت میں کامیابی کا انحصار ایمان کے اسی درجے کو حاصل کرنے پر ہے۔

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَ ‌‌ۖ ‌ۚ‏ ﴿۲﴾ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَؕ‏ ﴿۳﴾ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ‌ؕ ﴿۴﴾

Q-08:02-04

سچے مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرز اٹھیں، جب انہیں اس کی آیات سنائی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جائے، اور وہ صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھیں۔ (2) وہ نماز قائم کرتے ہیں اور اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے۔ (3) یہی سچے مومن ہیں۔ (4)

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهۡدِيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِاِيۡمَانِهِمۡ‌ۚ ﴿۹﴾

Q-10:09

بلاشبہ، جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ان کا رب ان کے ایمان کی بدولت ان کو رہنمائی (ھدایت) فرماتا ہے۔

وَالۡعَصۡرِۙ‏ ﴿۱﴾ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ‏ ﴿۲﴾ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۚ ﴿۳﴾

Q-103:01-03

اور عصر (کے وقت) کی قسم: ﴿1﴾ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ ﴿2﴾ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ ﴿3﴾

ہدایت۔

جب کوئی بندہ وحدانیتِ اللہ، یومِ آخرت، اور نازل کردہ آیات پر ایمان لائے اور ان پر عمل کرے، تو اللہ اس کے دل میں اپنی آیات منور کر دیتا ہے اور اسے صراطِ مستقیم دکھاتا ہے۔ اس مقام پر خدا ترس بندوں کی کھالیں لرز اٹھتی ہیں، اور ذکرِ الٰہی سے ان کے دل اور کھالیں نرم پڑ جاتی ہیں، اور یہی اللہ کی حقیقی ہدایت ہے۔

فَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يَّهۡدِيَهٗ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهٗ لِلۡاِسۡلَامِ‌ۚ ﴿۱۲۵﴾

Q-06:125

چنانچہ اللہ جسے ہدایت دینا چاہتا ہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے روشن کر دیتا ہے۔

اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ ؕ (۲۳)

Q-39:23

اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے، ایک ایسی کتاب جس کی باتیں پہلی کتابوں سے آپس میں ملتی جلتی اور دہرائی جانے والی ہیں۔ اس سے خدا ترس لوگوں کی جلدیں لرزنے لگتی ہیں۔ پھر اللہ کے ذکر سے ان کی جلدیں اور ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔ یہی اللّٰہ کی ھِدایت ہے۔

مرحلہ وار رہنمائی کا وعدہ۔

مسلمان اور مومن کے مابین ہدایت ہی وہ نقطۂ افتراق ہے جسے قرآن نے متعدد مقامات پر واضح کیا: "مسلمان" ہونا بنیادی طور پر ایک اعلانِ تسلیم ہے، جبکہ "مؤمن" ہونا ایک ایسا مقام ہے جو اللہ کی آیات کی اطاعت، احکامِ الٰہی کی تعمیل، اور نفس کو شریعت کے تابع کرنے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔

اللّٰہ تعالٰی مومنوں کو ان کے ایمان اور تقوٰی کی نسبت اور بڑے درجات پر مزید ہدایت دینے کا وعدہ کرتا ہے۔

تمثیل:- جس طرح سونا کچّی دھات (خام مال) ہے، لیکن اسے خالص سونے (کیمیا) کا درجہ تبھی ملتا ہے جب اسے آگ میں تپایا جائے اور کھوٹ سے پاک کیا جائے۔ اسی طرح انسان کا ایمان اس وقت خالص اور قابلِ قبول ہوتا ہے جب وہ قرآن کے احکام کو اپنے وُجود پر غالب کرے اور اس کے مطابق اپنی سیرت کو ڈھالے۔

وَمَنۡ يَّعۡتَصِمۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ هُدِىَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴿۱۰۱﴾

Q-03:101

اور جو کوئی اللہ کا دامن تھام لے، اسے یقیناً سیدھے راستے کی ہدایت مل گئی۔

وَيَزِيۡدُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا هُدًى‌ؕ ﴿۷۶﴾

Q-19:76

اور جو لوگ ھِدایت کے راستے پر ہیں، اللہ ان کی ہدایت میں مزید اضافہ فرماتا ہے؛

وَالَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا زَادَهُمۡ هُدًى وَّاٰتٰٮهُمۡ تَقۡوٰٮهُمۡ‏ ﴿۱۷﴾

Q-47:17

رہے وہ لوگ جنہوں نے ھِدایت پا لی ہے، تو وہ انہیں ھِدایت میں اور بڑھاتا ہے اور انہیں ان کی تقوٰی (پرہیزگاری) عطا کرتا ہے۔

ہدایت کا نتیجہ، مقامِ مومن۔

جب کوئی بندہ ایمان لاتا ہے، نیک اعمال بجا لاتا ہے، اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور اخلاص و عاجزی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، تو وہ ایمان کے اس درجے پر فائز ہو جاتا ہے جہاں توبہ کرنے والوں کے حق میں اللہ کا وعدہ پورا ہوتا ہے۔ یعنی اللہ اسے ہدایت کے اعلیٰ درجات عطا فرماتا ہے اور اسے اپنی رحمت کے خاص سائے میں لے لیتا ہے۔

الغرض، اسلام کا اقرار انسان کو مسلم برادری کا رکن تو بنا دیتا ہے، لیکن نجات کی کیفیت—یعنی ایک سچے مومن کا درجہ—نیک اعمال، مخلصانہ توبہ اور حقیقی ایمان ہی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًاصَالِحًـا فَاُولٰٓٮِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا‏ ﴿۷۰﴾ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا‏ ﴿۷۱﴾

Q-25:70-71

البتہ جو لوگ توبہ کریں، ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، تو اللہ ان کے برے اعمال کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (70) جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے، تو وہ درحقیقت سچی توبہ کے ساتھ اللہ کی طرف پلٹ آیا ہے۔ (71)

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهۡدِيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِاِيۡمَانِهِمۡ‌ۚ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ فِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ‏ ﴿۹﴾

Q-10:09

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے، ان کا رب ان کے ایمان کی بدولت ان کی رہنمائی فرمائے گا؛ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، نعمتوں والے باغات میں۔

وَالَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا زَادَهُمۡ هُدًى وَّاٰتٰٮهُمۡ تَقۡوٰٮهُمۡ‏ ﴿۱۷﴾

Q-47:17

رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پا لی ہے، تو وہ انہیں ہدایت میں اور مزید بڑھاتا ہے اور انہیں ان کی تقوٰی (پرہیزگاری) عطا کرتا ہے۔

ہدایت یافتہ مومن کی نشانی:-

سورۃ الزمر کی آیت ۲۳ قرآنِ مجید کی اُس زندہ اور لازوال تاثیر کو بیان کرتی ہے جو آج بھی اپنی پوری معنویت رکھتی ہے، یہ عاجز بندہ بھی اس کا ذاتی تجربہ رکھتا ہے۔ قرآن پڑھتے یا سنتے وقت ہدایت یافتہ مومنوں کے دلوں پر اللہ کی عظمت اور جلال کا اثر ہوتا ہے، ان کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور ان کی کھالیں خوفِ الٰہی سے کانپ اٹھتی ہیں۔ پھر جب اللہ کا ذکر ان کے دلوں کو چھوتا ہے تو یہ ہیبت سکون میں، لرزش اطمینان میں اور یہ سختی قلبی نرمی میں بدل جاتی ہے۔

اگر یہ اہلِ ایمان کبھی لغزش کا شکار ہو کر اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں تو گناہ پر ڈٹے نہیں رہتے۔ انہیں اپنے قصور کا احساس ہوتے ہی ان کے دل ندامت سے بھر جاتے ہیں، وہ اپنے رب کو یاد کر کے اس سے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے احکام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

پس یہی لوگ حقیقت میں ہدایت یافتہ ہیں۔ جن کے دل قرآن سے بیدار اور اللہ کے ذکر سے نرم ہو چکے ہیں۔

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِىَ ‌ تَقۡشَعِرُّ مِنۡهُ جُلُوۡدُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ‌ۚ ثُمَّ تَلِيۡنُ جُلُوۡدُهُمۡ وَقُلُوۡبُهُمۡ اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِىۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ‏ ﴿۲۳﴾۔

Q-39:23

اللہ تعالیٰ نے بہترین حدیث (قران) نازل فرمائی، ایک ایسی کتاب جو یکساں اور (پہلی کتابوں کو) دہرائی جانے والی ہے، جس کے (پڑھنے یا سننے سے) اپنے رب سے ڈرنے والوں کی کھالیں کانپ جاتی ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کے ذکر سے نرم ہو جاتے ہیں۔ یہی آپ کے لیے ہدایت ہے۔ خدا اس قران کے ذریعے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے خدا گمراہ ٹھہراۓ، اس کو کوئی ھدایت دینے والا نہیں ہے۔

تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِۙ‏ ﴿۲﴾ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّلۡمُحۡسِنِيۡنَۙ‏ ﴿۳﴾ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَؕ‏ ﴿۴﴾ اُولٰٓٮِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿۵﴾

Q-31:02-05

یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں، (2) جو نیکوکاروں کے لیے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہیں، (3) وہ جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ (4) یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر گامزن ہیں، اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ (5)

الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ۚ‏ ﴿۱۳۴﴾ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِهِمۡ وَمَنۡ يَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰهُ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿۱۳۵﴾ اُولٰٓٮِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ ﴿۱۳۶﴾

Q-03:134-136

جو خوشحالی اور تنگدستی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں—اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (134)
اور وہ لوگ جو جب کوئی بے حیائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنے اوپر (جانے انجانے گناہ کے کام کر) ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا گناہوں کو کون بخش سکتا ہے؟ اور انہوں نے جو کچھ کیا اس پر جان بوجھکر اڑے نہیں رہتے۔ (135) ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش اور جنّت کے باغات ہیں۔ (136)۔

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجَاهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‏ ﴿۱۵﴾

Q-49:15

مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر انہوں نے کوئی شک نہیں کیا، اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔

مومن کے اوصاف:-

ہمیں اس بات کا تعین کرنے کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں کہ ہم اس وقت ایمان کے کس درجے پر گامزن ہیں، آیا مسلمان، مومن یا متقی کے۔ اللہ نے سبھی مراحل کے اوصاف قرآن میں واضح کر دیے ہیں۔ ہم خود ذاتی طور پر جانچ سکتے ہیں کہ ہم کس گروہ میں شمار ہوتے ہیں، البتہ حتمی فیصلہ تو اللہ ہی کا ہوگا، کیونکہ اللّٰہ وہ جانتا ہے جو ہم خود بھی اپنے بارے میں نہیں جانتے۔

مومن تو وہ ہیں جو۔ ۔ ۔ ۔

۱۔ جو مُخلِص عبادت کرتے ہوں۔

مومن تمام عالم کے رب کی مخلص ہوکر عبادت کرتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتے۔ اور اسی پر توکّل کرتے ہیں۔

فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ ؕ‏ ﴿۲﴾ اَلَا لِلّٰهِ الدِّيۡنُ الۡخَالِصُ‌ ؕ‏ ﴿۳﴾

Q-39:02-03

پس اللہ کی عبادت کرو، اس کے لیے اپنی بندگی کو خالص رکھتے ہوئے۔ (2) یقیناً، خالص بندگی پر صرف اللہ ہی کا حق ہے۔ (3)

قُلۡ اِنِّىۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَۙ‏ ﴿۱۱﴾

Q-39:11

کہہ دیجیے: ”بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ دین میں اسی کے لیے مخلص رہوں۔“

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴿۱۲۹﴾

Q-09:129

اُس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ اُسی پر میں نے توکّل (بھروسہ) کیا ہے، اور وہی عظیم عرش کا مالک ہے۔

۲۔ جو عمل صالِح کرنے والے ہوں۔

مومن وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات پر دل سے ایمان لائیں اور ان کے مطابق زندگی گزاریں؛ بے حیائی اور گناہ کی طرف ان کا جھکاؤ تک نہ ہو، اور جب غصہ ان پر غالب آئے تو درگزر سے کام لیں۔ یہی درگزر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ذاتی بدلہ نہیں لیتے، بلکہ ان کا ہر عمل محض اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔

لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَۚ‏ ﴿۳۶﴾ وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓٮِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ‌ۚ‏ ﴿۳۷﴾

Q-42:36-37

مومن ہیں وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (36) اور جو کبیرہ گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصے میں ہوتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔ (37)

الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ۚ‏ ﴿۱۳۴﴾

Q-03:134

جو خوشحالی اور تنگدستی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں—اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

۳۔ جو قرآن سے ہدایت حاصل کریں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اہلِ ایمان کے لیے ہدایت کا مینارِ نور بنایا ہے۔ جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے؛ وہ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں، اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں، اور تکبر سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ متکبرین کو ہرگز پسند نہیں فرماتا۔

هٰذَا بَصَاٮِٕرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ‏ (۲۰)

Q-45:20

یہ [قرآن] لوگوں کے لئے دانائی (سمجھ) کی باتیں ہیں اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ذریعہ ہدایت اور رحمت ہے.

وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ‏ ﴿۱۷﴾

Q-54:17,22,32,40

اور بیشک ہم نے قرآن کو ذریعہ ہدایت کے لیے آسان فرما دیا تو ہے کوئی ہدایت پانے والا ؟

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَ ‌‌ۖ ‌ۚ‏ ﴿۲﴾

Q-08:02

مومِن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرز اٹھیں، اور جب انہیں اس کی آیات سنائی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جائے، اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں

اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏ ﴿۱۵﴾

Q-32:15

محض وہ لوگ مومن ہیں کہ جب ان پر ہماری آیات کا ذِکر ہوتا ہے تو وہ سجدے میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تکبّر نہیں کرتے۔

۴۔ جو نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔

مومن نماز کو پابندی سے قائم کرتے ہیں، اور اوقاتِ نماز اپنے بستروں کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اپنے رب کو خوف و امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے ضرورت مندوں پر خرچ کرتے ہیں۔

تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ‏ ﴿۱۶﴾

Q-32:16

بیشک مومِنوں کے پہلو نماز کے وقت اپنے بستروں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ضرورت مندوں پر) خرچ کرتے ہیں۔

وَيُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﯀ ﴿۷۱﴾

Q-09:71

مومن مرد اور مومن عورتیں نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ارۡكَعُوۡا وَاسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمۡ وَافۡعَلُوۡا الۡخَيۡرَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۚ‏ ﴿۷۷﴾

Q-22:77

اے ایمان والو رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیک کام کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

۵۔ جو ﷲ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کریں۔

وہی لوگ سچے مومن ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں پر، اس کتاب پر جو رسول ﷺ پر نازل ہوئی، اور ان کتابوں پر جو ان سے پہلے انبیاء پر نازل ہوئیں، ایمان رکھتے ہیں؛ رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے، شک نہیں کھاتے، اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔

قُوۡلُوۡٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَآ اُنۡزِلَ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَمَآ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى وَعِيۡسٰى وَمَآ اُوۡتِىَ النَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ ؗ وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿۱۳۶﴾

Q-02:136

کہو: "ہم اللہ پر اور اس (کتاب) پر ایمان لائے جو ہم پر نازل کی گئی اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل کی گئی، اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دی گئی، اور جو دوسرے انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئی۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔"

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجَاهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‏ ﴿۱۵﴾

Q-49:15

مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر انہوں نے کوئی شک نہیں کیا ہو، اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔

وَيُطِيۡعُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ؕ اُولٰۤٮِٕكَ سَيَرۡحَمُهُمُ اللّٰهُؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ‏ ﴿۷۱﴾

Q-09:71

مومن مرد اور مومن عورتیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا۔ بے شک اللہ زبردستِ قوت والا اور حکمت والا ہے۔

۶۔ جو گناہ کبیرا اور حرام عمل سے اجتناب کریں۔

اہلِ ایمان کبیرہ گناہوں اور بے حیائی سے دامن بچا کر رکھتے ہیں۔ لیکن اگر کبھی انسانی کمزوری کے باعث ان سے کوئی لغزش ہو جائے تو وہ گناہ پر ڈٹے نہیں رہتے؛ بلکہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں، ندامت کے ساتھ مغفرت مانگتے ہیں اور سچی توبہ کر کے نیکی کی راہ پر واپس آ جاتے ہیں۔

وہ غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں، انتقام کے بجائے عفو و درگزر کو اختیار کرتے ہیں۔ اور صبر و بردباری سے کام لیتے ہیں۔

لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَۚ‏ ﴿۳۶﴾ وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓٮِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ‌ۚ‏ ﴿۳۷﴾

Q-42:36-37

ان لوگوں کے لیے (آخرت میں بڑا اجر ہے) جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں؛ (36) اور جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، اور جو غصے کے وقت معاف کر دیتے ہیں؛ (37)

وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِهِمۡ وَمَنۡ يَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰهُ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿۱۳۵﴾ اُولٰٓٮِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ ﴿۱۳۶﴾

Q-03:135-136

اور مومن لوگ جو جب کوئی بے حیائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنے اوپر (جانے انجانے گناہ کے کام کر) ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا گناہوں کو کون بخش سکتا ہے؟ اور انہوں نے جو کچھ کیا اس پر جان بوجھکر اڑے نہیں رہتے۔ (135) ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش اور جنّت کے باغات ہیں۔

۷۔ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔

سچے مومن مرد اور مومن عورتیں اپنی عفت و پاک دامنی کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ صرف اپنے جائز ازدواجی تعلق کو اختیار کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ہر ناجائز تعلق اور حرام راستے سے خود کو محفوظ رکھتے ہیں۔ جو شخص جائز ازدواجی حدود سے آگے بڑھ کر کسی اور طریقے سے اپنی خواہش پوری کرنا چاہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے والا ہے۔

قُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ يَغُـضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِهِمۡ وَيَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَهُمۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ اَزۡكٰى لَهُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا يَصۡنَـعُوۡنَ‏ ﴿۳۰﴾ وَقُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ﯀ ﴿۳۱﴾

Q-24:30-31

مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں؛ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ یقیناً اللہ خوب اُس بات سے باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (۳۰) اور ایمان والی عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَۙ‏ ﴿۵﴾ اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌ۚ‏ ﴿۶﴾ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌ ۚ‏ ﴿۷﴾

Q-23:05-07

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں (5) سوائے اپنی بیویوں یا ان (لونڈیوں) کے جو ان کی ملکیت میں ہوں، کیونکہ اس صورت میں وہ قابلِ ملامت نہیں (6) لیکن جو کوئی اس کے علاوہ کچھ اور چاہے، تو وہی لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ (7)

۸۔ جو نیکی کا درس دیتے ہوں۔

مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں؛ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔

وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ۘ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ ؕ ﴿۷۱﴾

Q-09:71

مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں؛ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔

مومن مسلم کے مختصر اوصاف۔

• وہ خلوصِ نیت اور عقیدت کے ساتھ اُس ایک رب کی عبادت کرتا ہے جو بہترین ناموں کا مالک ہے اور جس کا سب سے عظیم نام 'اللہ' ہے۔

• وہ اپنے رب کی تسبیح اور حمد و ثنا بیان کرتا ہے۔

• وہ قرآن اور ان تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتا ہے جو اس سے پہلے انبیاء پر نازل کی گئی تھیں۔

• وہ نبی کریم ﷺ اور دیگر رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا اور ایمان کے معاملے میں کسی شک و شبہ کا شکار نہیں ہوتا۔

• وہ تکبر سے پاک ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی بھی طرح متکبر لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔

• وہ پابندی کے ساتھ نمازیں ادا کرتا ہے اور انہیں عاجزی و خشوع و خضوع کے ساتھ بجا لاتا ہے۔

• وہ صبح و شام اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے۔

• وہ دوسروں کو نیکی اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے۔

• وہ کبیرہ گناہوں اور تمام ناجائز کاموں سے اجتناب کرتا ہے۔

• وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتا ہے۔

• وہ اپنی پاک دامنی اور عفت کی حفاظت کرتا ہے۔

• وہ اپنی سپردگی میں دی گئی امانتوں کا پاس رکھتا ہے اور اپنے عہد و پیمان کو پورا کرتا ہے۔

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ يُوۡحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌  ۚ فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡالِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَـعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًـاوَّلَايُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾

Q-18:110

اے محمّدؐ کہہ دو کہ میں تو تم جیسا ایک آدمی ہوں جس پر وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے۔ پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے وہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

اَلتَّاۤٮِٕبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السّاۤٮِٕحُوۡنَ الرّٰكِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَالنَّاهُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَالۡحٰــفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰه ِ‌ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿۱۱۲﴾

Q-09:112

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، نماز پڑھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کرنے والے مومنوں کو خوشخبری سنا دو۔

اِن اوصاف کے لوگ مومن ہیں۔ یقیناً ان کے لیے ان کے رب کے یہاں ان کے اعمال کے مطابق درجے ہوں گے اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

مومنوں کی آزمائیش:-

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو آزمائشوں کے ذریعے پرکھتا، سنوارتا اور اپنے مزید قریب کرتا ہے۔ انسان جتنا اپنے رب کے قریب ہوتا جاتا ہے، اس کی آزمائشیں بھی اتنی ہی بڑی اور کٹھن ہو سکتی ہیں۔ رسولِ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کے جلیل القدر صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کی زندگیوں پر غور کریں؛ اور ان عظیم آزمائشوں پر دھیان دیں جو انہیں ایمان کی خاطر برداشت کرنی پڑیں۔

اسلام اُس پہاڑی چشمے کی طرح ہے جو اونچائیوں سے اترتا ہوے پتھروں سے ٹکرا-۲ کر اپنے اندر کی آلودگی کو دور کرتا ہے اور مزید شفاف ہوتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو پاکیزہ بنانے، ان کے ایمان کو نکھارنے اور ہدایت میں اضافہ کرنے کے لیے انہیں مسلسل آزمائشوں میں ڈالتا ہے۔

زندگی کے تجربات بھی گواہ ہیں کہ نئی کامیابیوں اور بلند مقاصد تک پہنچنے کے لیے انسان کو مشکلات، صبر اور قربانیوں کے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں۔

اۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡغَفُوۡرُۙ‏ ﴿۲﴾

Q-67:02

اُسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے—اور وہ زبردستِ غلبہ والا اور بہت بخشنے والا ہے۔

وَلَيَـعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَيَـعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ‏ ﴿۱۱﴾

Q-29:11

اور اللہ یقیناً ایمان والوں کو جان لے گا اور منافقوں کو بھی ضرور پہچان لے گا۔

وَلَـنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَـوۡفِ وَالۡجُـوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَۙ‏ ﴿۱۵۵﴾ الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ  ۙ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَؕ‏ ﴿۱۵۶﴾ اُولٰٓٮِٕكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ‏ ﴿۱۵۷﴾

Q-02:155-157

اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک اور مال، جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے آزمائیں گے؛ مگر صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ (155)
وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں: "بلاشبہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔" (156) انہی پر ان کے رب کی طرف سے رحمتیں اور عنایات ہیں، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (157)

مومنوں کا اَجر 'جَنّٰتِ عَدۡن'۔

جنت کا راستہ محض زبانی دعوے سے نہیں کھلتا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان لانا بنیادی شرط ہے، لیکن اس ایمان کی سچائی عملِ صالح ہی سے منزلِ مقصود تک پہنچتی ہے۔

حقیقی مؤمن وہ ہے جو ایمان کو اپنے دل میں جگہ دے، اسے اپنی زبان سے اقرار کرے اور اپنے اعمال کے ذریعے اس کی گواہی بھی دے۔ بے شک اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے جو ایمان کے ساتھ نیک اعمال اختیار کرتے ہیں؛ اور اس کے وعدے کے مطابق یہی ہدایت یافتہ اہلِ ایمان جنتِ عدن کے حقیقی وارث ہوں گے۔

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا‌ ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيۡلًا‏ ﴿۱۲۲﴾

Q-04:122

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے، ہم انہیں ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے؛ اور اللہ سے بڑھ کر بات میں سچا کون ہو سکتا ہے؟

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ اُولٰٓٮِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡبَرِيَّةِ ؕ‏ ﴿۷﴾ جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ‌ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ ‌ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِىَ رَبَّهٗ‏ ﴿۸﴾

Q-98:07-08

بلاشبہ، جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ وہی بہترین مخلوق ہیں۔ (7) ان کے رب کے ہاں ان کا بدلہ "جنّت عدن" ہے۔ جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے؛ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں۔ یہ (انعام) اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ (8)

وَعَدَ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِىۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ‌ ؕ وَرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكۡبَرُ‌ ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ‏ ﴿۷۲﴾

Q-09:72

اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں سے ایسے باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور 'جنّتِ عدن' (ہمیشگی کے باغات) میں پاکیزہ رہائش گاہوں کا؛ اور اللہ کی رضا (ان سب نعمتوں سے) کہیں بڑھ کر ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

عرش کے فرشتوں کی مومنوں کے لیے دعا:-

جو فرشتے عرشِ الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہیں، وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔

وہ دعا کرتے ہیں:

’’اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر محیط ہے؛ پس جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی، انہیں بخش دے اور انہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اے ہمارے رب! انہیں ہمیشہ رہنے والی ان جنتوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، اور ان کے آباؤ اجداد، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو صالح ہوں، انہیں بھی ان کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ بیشک تو ہی غالب اور حکمت والا ہے۔

اور انہیں برائیوں سے محفوظ فرما۔ جسے تو نے اس دن برائیوں سے محفوظ فرما دیا، یقیناً اس پر تیری رحمت ہو گئی، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘‘

اَلَّذِيۡنَ يَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَهٗ يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا‌ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَىۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ‏ ﴿۷﴾ رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ اۨلَّتِىۡ وَعَدْتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآٮِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۙ‏ ﴿۸﴾ وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَٮِٕذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ ؕ وَذٰ لِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴿۹﴾

Q-40:07-09

جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو ایمان لائے ہیں، [کہتے ہیں کہ] اے ہمارے رب، تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم میں گھیر رکھا ہے، پس جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرا راستہ اختیار کیا انہیں بخش دے اور انہیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ (7)
اے ہمارے رب اور ان کو ہمیشگی کے باغوں میں داخل کر جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے صالح ہوں۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے۔ (8)
اور ان کو شر سے محفوظ رکھ۔ اور جس کو تو نے اس دن برائی سے بچایا، یقیناً تو نے اس پر رحم کیا۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ (9)

**********