رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
مسلم
اسلام وہ دینی و روحانی تعلیمی ادارہ ہے جو روئے زمین پر اولادِ آدم کی رہنمائی کرتا ہے؛ اس میں داخل ہونے والا ہر انسان—خواہ مرد ہو یا عورت—مسلم کہلاتا ہے۔ اس روحانی ادارے میں پڑھائی جانے والی کتاب قرآن ہے۔ جو اللّٰہ کا کلام ہے۔
قرآن کے مطالعے اور فہم کے بعد جو طالبِ علم ایمان اور عملِ صالح کے امتحان میں کامیاب ہوتا ہے، وہ اللہ کی رضا اور ہدایت سے سرفراز ہو کر مومن کے درجے میں داخل ہوتا ہے۔ جبکہ جو غفلت، لاپرواہی یا کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے، وہ اس بلند مقصد سے دور رہ جاتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی ملّت، یعنی ایک اللہ پر ایمان، یومِ آخرت پر یقین اور اللہ کی نازل کردہ آیات کو تسلیم کرنا، اسلام میں داخلے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ لیکن قرآن میں کہیں بھی اللہ نے محض اس ابتدائی اقرار کی بنیاد پر مغفرت کا وعدہ نہیں فرمایا؛ بلکہ بارہا ارشاد فرمایا کہ: کامیابی کے لیے ایمان کے ساتھ عملِ صالح لازم ہے۔
پس جو شخص ان آیات پر ایمان تو رکھتا ہے، مگر انہیں اپنی زندگی میں اتارنے سے گریز کرتا ہے، وہ مسلم تو ہے؛ مگر اللہ کی ہدایت کے حقیقی نور سے محروم رہتا ہے۔
لہٰذا اسلام صرف نام کا اقرار نہیں، بلکہ ایک عملی تربیت کا نام ہے۔ جس طرح طالبِ علم محض کسی علمی ادارے میں داخلہ لینے سے عالم نہیں بن جاتا، اسی طرح مسلم بھی محض اقرار سے مومن نہیں بن سکتا؛ بلکہ قرآن کی رہنمائی، مخلص ایمان اور عملِ صالح ہی اسے مومن کے درجے تک پہنچاتے ہیں۔
اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ؗ﴿۵۳﴾
Q-30:53, 27:51مگر وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں، پس وہ مسلمان ہیں.
وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿۶۹﴾
Q-29:69اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، ہم یقیناً انہیں اپنے راستوں کی طرف ھدایت دینگے۔ اور بلاشبہ اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
وَمَنۡ يَّعۡتَصِمۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ هُدِىَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴿۱۰۱﴾
Q-03:101اور جو کوئی اللہ کا دامن تھام لے، اسے یقیناً سیدھے راستے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
وَالۡعَصۡرِۙ ﴿۱﴾ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ ﴿۲﴾ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۚ ﴿۳﴾
Q-103:01-03اور زمانے کی قسم: ﴿1﴾ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ ﴿2﴾ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ ﴿3﴾
مسلم کی تعریف:-
مسلم عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "فرمانبردار"، "اطاعت گزار" اور "سرِ تسلیم خم کرنے والا"۔ شرعی اصطلاح میں۔ ۔ ۔ ۔
"مسلم وہ شخص ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی ملّت یعنی ایک اللہ، اُس کی آیات اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور عمل صالح کریں۔ پس وہی حقیقتاً مسلم ہے۔"
مَا كَانَ اِبۡرٰهِيۡمُ يَهُوۡدِيًّا وَّلَا نَصۡرَانِيًّا وَّ لٰكِنۡ كَانَ حَنِيۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴿۶۷﴾
Q-03:67ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ ہی عیسائی، بلکہ وہ سچے موحد یعنی مسلمان تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهۡدِيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِاِيۡمَانِهِمۡۚ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ فِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ﴿۹﴾
Q-10:09بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب اُن نعمتوں کے باغوں میں رہنمائی کرے گا، جن کے نیچے سے نہر جاری ہو گی۔
اوّل مسلم بننے کا حکم۔
حضرت ابراھیمؑ اور حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں کو وصِیت کی تھی، کہ اے میرے بیٹو! اللّٰہ نے تمہارے لیے یہ دین منتخب کیا ہے۔ لہٰذا جب تم مرو تو اس حال میں مرنا کہ تم مسلمان رہو۔
(رسول ﷺ نے کہا) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے اوّل تم مسلم بنو۔ اور کہہ دو کہ میں اپنے ربّ کے احکامات (آیات) کی نافرمانی نہیں کرتا۔ کیونکہ میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ میں اپنے ربّ کی مُخلِص ہوکر عبادت کرتا ہوں۔
اللّٰہ تعالیٰ قران کی سورۃ آلِ عمران کی آیت ۱۰۲ اور ۱۰۳ میں ھدایت یافتہ مومنوں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے۔ "اے ایمان والوں اپنے ربّ سے ڈرو اور اِس حال میں مرو کہ تم مسلمان رہو"۔
یعنی مسلم ہی وہ کلید اور بابِ اوّل ہے جو سب سے پہلے 'مومن' کے مقام تک، پھر 'متقی' اور 'امام' کے درجات تک، اور بالآخر 'مقرب' (بارگاہِ الٰہی کے مقربین) کے اعلیٰ ترین مرتبے تک لے جاتا ہے"۔
بلاشبہ، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے بندوں کے لیے عبادت کے پانچ درجات مقرر فرمائے ہیں: مسلم، مومن، متقی، امام اور مقرب۔ تاہم، اعمال کی بنیاد پر ان میں سے ہر درجے کے اندر مزید مراتب بھی موجود ہیں۔
وَوَصّٰى بِهَآ اِبۡرٰهٖمُ بَنِيۡهِ وَ يَعۡقُوۡبُؕ يٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَـكُمُ الدِّيۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَؕ ﴿۱۳۲﴾
Q-02:132اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اس بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی: "اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمہارے لیے یہ دین منتخب کیا ہے، لہٰذا تم نہ مرنا۔ مگر اِس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔"
وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴿۱۲﴾ قُلۡ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴿۱۳﴾ قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِىۙ ﴿۱۴﴾
Q-39:12-14اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے مسلم بنوں۔ (12) کہہ دو کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (13) کہو کہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے لیے اپنے دین کو خالص کرتا ہوں۔ (14)
قُلۡ اِنۡ ضَلَلۡتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَـفۡسِىۡ ۚ وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ فَبِمَا يُوۡحِىۡۤ اِلَىَّ رَبِّىۡ ؕ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ قَرِيۡبٌ ﴿۵۰﴾
Q-34:50کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوا۔ تو صرف اپنی ہی نفس کی خاطر گمراہ ہوا۔ اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ میرے ربّ کی میری طرف وحیٔ کرنے کی وجہ سے ہے۔ بیشک وہ سننے والا اور قریب ہے۔
وَمَنۡ يَّعۡتَصِمۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ هُدِىَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴿۱۰۱﴾ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
Q-03:101-102اور جو کوئی اللہ کا دامن تھام لے، اسے یقیناً سیدھے راستے کی ہدایت مل گئی۔ (101) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ (102)
اگر آپ مسلم ہیں۔
آپ مسلم ہیں۔ اگر آپ کسی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں تو یہ اللہ کا آپ پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے آپ کو ہدایت کی راہ عطا کی۔ لیکن یاد رکھیں! یہ احسان تبھی مکمل ہوگا ہوگا جب آپ حق کے ساتھ رجوع کرنے والے بنیں۔ قرآن پر محض ایمان نہ لائیں، بلکہ قرآن کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں، اس پر عمل کریں، اور عملِ صالح سے اپنے ایمان کو سیراب کریں۔
بلاشبہ ہر ایمان والا مسلم ہے، مگر ہر مسلم ایمان والا ہو، یہ ضروری نہیں۔
يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَىَّ اِسۡلَامَكُمۡ ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰٮكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ﴿۱۷﴾
Q-49:17یہ آپ پر احسان سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ کہہ دو کہ تم اپنے اسلام لانے کو مجھ پر احسان نہ سمجھو، بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی طرف ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔
فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ؕ لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَـلۡقِ اللّٰهِ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۙ ﴿۳۰﴾
Q-30:30پس تم دین حنیف یعنی حق کے راستے پر ثابت قدم رہو۔ یہ وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے انسانیت کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت (راستہ حق) میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے۔
اللّٰہ کے رضا یافتہ مسلم۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد ﷺ پر وحی (قرآن کی آیات) نازل فرمائی، اور حکم دیا کہ اِس پر ایمان لاؤ۔ بیشک جو اللہ اور اس کی آیات پر ایمان لاتا ہے، وہ اسلام میں داخل ہو کر مسلم بن جاتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں: یہ صرف داخل ہونا ہے۔ اللہ کے رضا یافتہ مسلم بننے کے لیے ایک طویل سفر کا آغاز کرنا ہوگا: اپنے ایمان پر جدوجہد کا، اور اس پر عمل کرنے کا۔
یہاں قرآن سے مراد وہ مقدس کتابیں بھی ہیں جو پہلے انبیاء پر نازل کی گئی تھیں، کیونکہ اُن میں بھی خدا کا وہی پیغام تھا جو قرآن میں ہے۔
اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ؗ﴿۵۳﴾
Q-30:53, 27:81مگر وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں، پس وہ مسلمان ہیں.
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالۡكِتٰبِ الَّذِىۡ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَالۡكِتٰبِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓٮِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا ﴿۱۳۶﴾
Q-04:136اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی اور اُن کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی تھی۔ اور جو اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت کا انکار کرے گا وہ یقیناً بہت دور کی گمراہی میں چلا گیا ہے۔
اِنَّ هٰذَا لَفِى الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰىۙ ﴿۱۸﴾ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى ﴿۱۹﴾
Q-27:19-19درحقیقت یہ قران پہلے کے صحیفوں میں بھی ہے (18) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔ (19)
اِنَّاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ كَمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى نُوۡحٍ وَّالنَّبِيّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ ۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَعِيۡسٰى وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡنُسَ وَهٰرُوۡنَ وَسُلَيۡمٰنَ ۚ وَاٰتَيۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ۚ ﴿۱۶۳﴾
Q-04:163ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے جس طرح ہم نے نوح اور ان کے بعد کے انبیاء پر وحی کی تھی۔ اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اُن کے ورثاء عیسیٰ، ایوب، یونس اور ہارون۔ اور سلیمان پر وحیٔ کی تھی۔ اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔
ھدایت کا وعدہ۔
وہ لوگ جو اسلام میں داخل ہیں سب مسلم ہیں، لیکن ہر مسلم کے پاس ایمان کی دولت نہیں ہوتی۔ البتہ جو ایمان والے مسلم خدا کی طرف جدوجہد کرتے ہیں، بیشک اُن کے لیے خدا کا وعدہ ہے۔
"جو خدا کی طرف رجوع کرتا ہے، خدا اسے ہدایت دیتا ہے"۔ بیشک جو ھدایت پاتا ہے وہ مومن کے درجے پر فائز ہوجاتا ہے۔
اَللّٰهُ يَجۡتَبِىۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴿۱۳﴾
Q-42:13اللہ جسے چاہتا ہے اپنی طرف لے آتا ہے اور اسے ہدایت دیتا ہے اور (اُس کو بھی) جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔
وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿۶۹﴾
Q-29:69اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، ہم یقیناً انہیں اپنے راستوں کی طرف ھدایت دینگے۔ اور بلاشبہ اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ہدایت: وراثت نہیں۔
دنیا میں پیدا ہونے والا خدا کا ہر ایک بندہ، خواہ وہ کافر کے گھر میں پیدا ہوا ہو یا مشرک کے، مومن کے گھر میں پیدا ہوا ہو یا مقرب کے، کسی کو ہدایت وراثت میں نہیں ملتی۔ ہدایت کے لیے خدا کی طرف جدوجہد اور رجوع کرنا پڑتا ہے۔
والدین کا کام محض علم دینا ہے۔ خدا اور اس کی راہوں کو ڈھونڈنا ہر بڑے ہوتے بچے پر اسی طرح فرض ہے، جس طرح وہ باپ کے سائے سے باہر نکل کر اپنے لیے الگ روزی ڈھونڈتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء اور رسولوں کے بچے بھی کافر ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کے دن باپ بیٹے کا اور بیٹا باپ کا بوجھ نہیں اٹھائیگا۔
یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ پیدائشی مسلمان ہونا جنت کی کلید نہیں، بلکہ ایمان اور نیک عمل کے ساتھ خدا کی طرف رجوع کرنے سے ہی خدا کی رضا اور ہدایت حاصل ہوتی ہے۔
مَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ؕ ﴿۱۵﴾
Q-17:15جو کوئی ہدایت پاتا ہے تو وہ صرف اپنی ہی بھلائی کے لیے ہدایت پاتا ہے، اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے ہی نقصان کے لیے گمراہ ہوتا ہے؛ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرَىٰ ؕ وَاِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ اِلٰى حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَىۡءٌ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ؕ اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ وَمَنۡ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفۡسِهٖ ؕ وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴿۱۸﴾
Q-35:18اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا؛ اور اگر کوئی بوجھ تلے دبا ہوا شخص اپنے بوجھ کے لیے مدد پکارے تو اس میں سے کچھ بھی (دوسرے کی طرف سے) نہیں اٹھایا جائے گا، خواہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔
آپ صرف انہی لوگوں کو خبردار کر سکتے ہیں جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور جو شخص خود کو پاک کرتا ہے تو وہ صرف اپنے ہی بھلے کے لیے ایسا کرتا ہے؛ اور اللہ ہی کی طرف حتمی واپسی ہے۔
وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِىۡ مِنۡ اَهۡلِىۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَـقُّ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰكِمِيۡنَ ﴿۴۵﴾ قَالَ يٰـنُوۡحُ اِنَّهٗ لَـيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ ۚاِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسۡــَٔــلۡنِ مَا لَـيۡسَ لَـكَ بِهٖ عِلۡمٌ ؕ اِنِّىۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰهِلِيۡنَ ﴿۴۶﴾
Q-11:45-46اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا: "اے میرے رب! بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔" (45)
فرمایا: "اے نوح! بے شک وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے؛ درحقیقت اس کا عمل ہی غیر صالح ہے۔ لہٰذا مجھ سے اس بارے میں سوال نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ کہیں تو نادانوں میں شامل نہ ہو جائے۔" (46)
Q- Q-غافِل مسلم۔
مسلم ایک اللہ اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں، مگر قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ان آیات میں کیا لکھا ہے۔ عربوں کے علاوہ اکثر مسلم اس سے ناواقف ہیں۔
بیشک وہ آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں، مگر افسوس کہ آخرت سے ڈرتے نہیں ہیں۔ یہ وہ مسلم ہیں جو قرآن سے پیٹھ پھیر کر اندھے، گونگے اور بہرے بن گئے ہیں۔ انہوں نے قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا، جھوٹ بولنا، شرک کرنا، ناپ تول میں کمی کرنا، بےایمانی کرنا، جادو ٹونا، شراب نوشی اور دیگر حرام کاموں سے باز نہیں آتے۔ یہاں تک کہ کفر تک سے بھی گریز نہیں کرتے۔
فَاِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴿۵۲﴾ وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰدِ الۡعُمۡىِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۳﴾
Q-30:52-53بے شک، نہ تو آپ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ہی بہروں کو پکار سنا سکتے ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں۔ (یعنی جب وہ قران سے پیٹھ پھیر لیں)۔ اور نہ ہی آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہِ راست پر لا سکتے ہیں؛ آپ صرف انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں اور (ہمارے آگے) سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔
جو مسلمان جان بوجھ کر حرام کام کرتے ہیں، شرک و کفر کے کام کرتے ہیں، وہ بدبخت مسلم ہیں۔ اور بدبختوں کے لیے کوئی معافی نہیں ہوگی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن ہیں۔
ہاں! اگر کوئی غافل شخص اپنا طرزِ عمل بدل لے اور اللہ کی طرف رجوع کرے، تو اللہ جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ بیشک وہ رحمٰن اور رحیم ہے، اور جو چاہے کر سکتا ہے۔
فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا فَفِى النَّارِ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌۙ ﴿۱۰۶﴾ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴿۱۰۷﴾
Q-11:106-107رہے وہ لوگ جو بدبخت ہیں، تو وہ آگ میں ہوں گے؛ وہاں وہ چیخیں گے اور چلائیں گے۔ (106) وہ اس میں اس وقت تک رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، سوائے اس کے کہ آپ کا رب کچھ اور چاہے؛ بے شک آپ کا رب وہی کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔ (107)
غافِل مسلموں سے اجتناب۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان مسلمانوں سے دور رہنے کی تلقین فرماتا ہے جنہوں نے دنیاوی خواہشات کو ہی اپنی زندگی کا واحد مقصد بنا لیا ہے۔ وہ دنیا کی رعنائیوں اور فریب کاریوں میں اس قدر مگن ہو چکے ہیں کہ اپنے رب کی یاد سے غافل ہو گئے ہیں۔ اور یہ بھول گئے ہیں کہ زمین پر موجود تمام آرائش و زیبائش محض ایک آزمائش ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان مسلمانوں سے دور رہنے کی تلقین فرماتا ہے جنہوں نے دنیاوی خواہشات کو ہی اپنی زندگی کا واحد مقصد بنا لیا ہے۔ وہ دنیا کی رعنائیوں اور فریب کاریوں میں اس قدر مگن ہو چکے ہیں کہ اپنے رب کی یاد سے غافل ہو گئے ہیں۔ اور یہ بھول گئے ہیں کہ زمین پر موجود تمام آرائش و زیبائش محض ایک آزمائش ہے۔
اللہ ایسے لوگوں پر شیطانوں کو مسلط کر دیتا ہے جو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ راہِ راست پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بدبخت لوگوں کو مویشیوں سے بھی بدتر حالت میں پاتا ہے۔
وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهٗ عَنۡ ذِكۡرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ وَكَانَ اَمۡرُهٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾
Q-18:28اور اس شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے، اور جس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے۔
وَمَنۡ يَّعۡشُ عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَيِّضۡ لَهٗ شَيۡطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيۡنٌ ﴿۳۶﴾ وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴿۳۷﴾
Q-43:36-37اور جو کوئی رحمن کی یاد سے منہ موڑتا ہے، تو ہم اُن پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو اُن کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ (36) بے شک وہ اُن کو سیدھے راستے سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ (37)
اَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰٮهُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِ وَكِيۡلًا ۙ ﴿۴۳﴾ اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ يَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ هُمۡ اِلَّا كَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا ﴿۴۴﴾
Q- Q-25:43-44کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ تو کیا آپ اس پر نگہبان بنیں گے؟ یا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ وہ تو بس مویشیوں کی مانند ہیں؛ بلکہ وہ راستے کے اعتبار سے اُن سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ ﴿۸۱﴾ وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَـنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَقُوۡلُوۡنَ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُۚ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا لَخَسَفَ بِنَا ؕ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴿۸۲﴾
Q-28:81-82چنانچہ ہم نے قارون اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا؛ (۸۱) اور جو لوگ اس سے پہلے دن اس کے مرتبے کی تمنا کر رہے تھے، وہ کہنے لگے: "افسوس! اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ اگر اللہ ہم پر فضل نہ کرتا تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ افسوس! یقیناً کافر کامیاب نہیں ہوتے۔"
اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
Q-18:07بلاشبہ، ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس کے لیے زینت بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔
روزِ قیامت غافِل مسلموں سے بازپرس۔
وہ مسلم جو آج شیطان کی گرفت میں جکڑے ہیں، کل قیامت کے دن جب سب اکٹھا کیے جاینگے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیگا۔
"کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا تھا؟ اور وہ بھی تب، جبکہ تم نے میری آیتوں کا ٹھیک سے مطالعہ بھی نہیں کیا تھا؟ آخر تم زمین پر کر کیا رہے تھے"؟ (کم از کم قرآن کا مطالعہ ہی کر لیتے)؟
آج کی دنیا میں قرآن کے تراجم ہر بڑی زبان میں موجود ہیں، یعنی ہر شخص اپنی زبان میں قرآن پڑھ اور سمجھ سکتا ہے۔ اس کے باوجود، لوگ وقت نہیں نکال پاتے اور محض بہانے بناتے ہیں۔
حَتّٰٓى اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَكَذَّبۡتُمۡ بِاٰيٰتِىۡ وَلَمۡ تُحِيۡطُوۡا بِهَا عِلۡمًا اَمَّاذَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۴﴾
Q-27:84(قیامت کے دن) جبکہ وہ سب آجائیں گے تو وہ (اللّٰہ) کہے گا کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تم نے ان کے علم کا احاطہ نہیں کیا تھا۔ پھر بھلا تم کیا کرتے تھے؟
دنیا کی زندگی محض آزمائش۔
بلاشبہ، اللہ ہمیں زمین پر آزمائش کے لیے بھیجتا ہے تاکہ وہ ہمارے اعمال کا ہمیں صلہ دے۔ اس کے باوجود، خدا کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے اور اہل ایمان و مقربینِ الٰہی کے درجات پانے کے بجائے، ہم دنیا کے فریب میں کھو جاتے ہیں۔
خدا کا وعدہ ہے کہ جو لوگ صرف دنیا کے طلبگار ہیں، انہیں دنیا عطا کی جائے گی، مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ جبکہ جو دنیا اور آخرت دونوں کے طلبگار ہیں، انہیں دنیا بھی ملے گی اور آخرت میں وہ جنّت کے باغوں میں اونچے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآن کو محض پڑھنے کی بجائے اس کا مطالعہ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡغَفُوۡرُۙ ﴿۲﴾
Q-67:02جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے—اور وہ زبردستِ غلبہ والا اور بہت بخشنے والا ہے۔
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۷﴾
Q-16:97جو کوئی بھی (مرد ہو یا عورت) ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے گا، تو ہم اسے یقیناً ایک عمدہ زندگی عطا کریں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کے مطابق ضرور جزا دیں گے۔
اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
Q-18:07بلاشبہ، ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس کے لیے زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔
فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الدُّنۡيَا وَمَا لَهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ ﴿۲۰۰﴾ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۲۰۱﴾ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّمَّا كَسَبُوۡا ؕ وَاللّٰهُ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۲۰۲﴾
Q-02:200-202اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما۔ پس آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ (200) اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ (201) ان کے لیے ان کی کمائی کا حصہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ہے۔ اور اللہ جزا اور سزا کا حساب جلدی کرنے والا ہے۔ (202)
جنّت کا تصوّر۔
اللہ قرآن میں یہ کہیں نہیں فرماتا کہ جو لوگ محض مسلم گھرانوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے مسلم کہلاتے ہیں وہ جنّتی ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو دینِ حنیف کی فطرت پر پیدا کرتا ہے۔ یعنی ہر انسان پیدائشی مسلم ہے۔ لیکن جنّتی وہ ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رضا حاصل کرے، اس کے احکامات پر عمل کر کے عملِ صالح کرے۔
فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ؕ لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَـلۡقِ اللّٰهِ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۙ ﴿۳۰﴾
Q-30:30پس تم دین حنیف یعنی حق کے راستے پر ثابت قدم رہو۔ یہ وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے انسانیت کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت (راستہ حق) میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے۔ (۳۰)۔
اِس مسلہ کو گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۱۔ کیا سب مسلم جنّتی ہیں۔
نہیں ہر گِز نہیں۔ اللہ سورۃ النساء آیت ۱۲۳ میں اُن لوگوں کے دعوؤں کا جواب دیتا ہے جو جنّتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مسلم کہتے ہیں کہ ہم مسلم جنّت میں جائیں گے، یہودی کہتے ہیں کہ صرف وہ جائیں گے، اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ وہ جنّت کے وارث ہیں۔
اللہ فرماتا ہے کہ جنّت اہلِ قرآن یا اہلِ کتاب کی خواہشات کی ملکیت نہیں ہے۔ جنّت کو آزمائشوں کی بھٹی سے گزر کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اور جو کوئی برائی کرے گا، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
لَـيۡسَ بِاَمَانِيِّكُمۡ وَلَاۤ اَمَانِىِّ اَهۡلِ الۡـكِتٰبِؕ مَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا يُّجۡزَ بِهٖۙ وَ لَا يَجِدۡ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴿۱۲۳﴾
Q-04:123معاملہ نہ تمہاری خواہشات کے مطابق ہے اور نہ ہی اہل کتاب کی خواہشات کے مطابق؛ جو کوئی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا، اور وہ اللہ کے سوا اپنے لیے نہ کوئی سرپرست پائے گا اور نہ ہی کوئی مددگار۔
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَ لَمَّا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ ﴿۲۱۴﴾
Q-02:214کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم جنت میں یوں ہی داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں کی (آزمائیشوں کے) حالات نہیں گزرے، جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں؟ انہیں مصیبتوں اور سختیوں نے آلیا اور وہ ہلا کر رکھ دیے گئے، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے: "اللہ کی مدد کب آئے گی؟" خبردار! اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔
۲۔ شِرک وَکُفر کی معافی نہیں۔
اللہ اپنے بندوں کے ہر گناہ کو معاف کر سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ بندے نے شرک یا کفر نہ کیا ہو۔ کیونکہ جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اس کا بدلہ ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا ﴿۴۸﴾
Q-04:48بلاشبہ اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، لیکن وہ اس کے علاوہ (دیگر گناہوں کو) جس کے لیے چاہے معاف کر دیتا ہے؛ اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اس نے یقیناً ایک بہت بڑا گناہ گھڑ لیا۔
۳۔ مغفرت پانے والے مسلم کون ہیں۔
اللہ صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو لاعلمی اور جاہلیت میں گناہ کر بیٹھتے ہیں — یعنی جان بوجھ کر گناہ نہیں کرتے۔ اور پھر اپنی اصلاح کر کے نیکی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، اپنے ظلم پر نہیں اڑتے، جلد ہی اللہ کے سامنے معافی طلب کرتے ہیں، اور دوبارہ گناہ سے بچنے کا عہد کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ معاف کرنے کا وعدہ دیتا ہے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
لب و لباب یہ ہے کہ: آخرت کے دن وہی مسلمان معاف کیے جائیں گے جو انجانے میں گناہ کر بیٹھتے ہیں، یا جو گناہ کرنے کے بعد ہدایت کے راستے پر چل پڑتے ہیں اور پھر سے گناہ نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں، اور قرآن کی آیات کا مطالعہ کر کے اپنی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق بسر کرتے ہیں۔
وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
Q-03:135اور جو جان بوجھ کر گناہوں پر اڑے نہیں رہتے۔
فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴿۳۹﴾
Q-05:39پس جو کوئی اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر نیکی اختیار کرلے، تو اللہ اس کی طرف رجوع فرمائے گا۔ بے شک اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
اِنَّمَا التَّوۡبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِيۡبٍ فَاُولٰٓٮِٕكَ يَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴿۱۷﴾
Q-04:17اللہ صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو جہالت کی بنا پر برائی کر بیٹھتے ہیں اور پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں؛ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ معاف کر دیتا ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِهِمۡࣞ وَمَنۡ يَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰهُࣞ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
Q-03:135اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا گناہ کون معاف کر سکتا ہے؟ اور جو اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑے نہیں رہتے۔
۴۔ جنّتی مسلم کون ہیں۔
بلاشبہ وہ مسلم جنّتی ہیں جو اللہ کی وحی کردہ آیات کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو سیدھے راستے پر ہیں، اور یہی لوگ نصیحت ماننے والے ہیں۔
فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِىۡۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴿۴۳﴾ وَاِنَّهٗ لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَۚ وَسَوۡفَ تُسۡـَٔـلُوۡنَ ﴿۴۴﴾
Q-43:43-44پس جو کچھ آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اسے مضبوطی سے تھامے رکھیں؛ بلاشبہ آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ (۴۳) اور یقیناً یہ آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے ایک نصیحت ہے، اور عنقریب آپ سے بازپرس کی جائے گی۔ (۴۴)
۵۔ نَو مسلم کی مغفرت۔
اللہ اُن مسلموں کے لیے فرماتا ہے جو کافروں کے گھر پیدا ہوئے اور اپنے باپ دادا کا دین اپنایا، اور اپنی جانوں پر شرک یا کفر کر کے زیادتی کی، لیکن پھر اللہ کی طرف جدوجہد کی، وہ مایوس نہ ہوں، بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کرکے ہدایت دیتا ہے؛ وہ بہت بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ پھر سے نہ پلٹیں۔
لہٰذا جنّت پیدائشی مسلموں کے لیے نہیں، بلکہ اُن مسلموں کے لیے ہے جو آزمائشوں کے باوجود مخلص رہتے ہیں، اللہ کی آیات پر محض ایمان نہیں لاتے بلکہ ان پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر پیدائشی مسلم کو اخلاص اور ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
قُلۡ يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴿۵۳﴾
Q-34:53کہہ دیجیے: "اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے؛ وہ بہت بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔"
قُلْ لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَۚ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴿۳۸﴾
Q-08:38ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے کفر کیا: اگر وہ باز آ جائیں تو جو کچھ گزر چکا ہے اسے معاف کر دیا جائے گا؛ لیکن اگر وہ پھر سے کفر کی طرف پلٹے تو اگلوں کا طریقہ کار پہلے ہی قائم ہو چکا ہے۔
شفاعت۔
ایشیائی ممالک میں، مذہبی علماء نے 'شفاعت' کے حوالے سے غلط فہمیوں کو فروغ دیا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ شفاعت کا مکمل اختیار صرف اُسی کے پاس ہے۔
بلاشبہ رسولِ کریمؐ شفاعت فرمائیں گے، لیکن صرف اُن لوگوں کے لیے جن کے حق میں اللہ چاہے گا؛ کوئی بھی رسول اپنی مرضی سے شفاعت کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ تاہم، جن لوگوں کی شفاعت کی اللہ کی طرف سے اجازت نہیں ہوگی، اُن کے بارے میں رسولِ کریمؐ عرض کریں گے:
"اے میرے رب! اِن لوگوں نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔"
اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ ؕ قُلۡ اَوَلَوۡ كَانُوۡا لَا يَمۡلِكُوۡنَ شَيۡـًٔـا وَّلَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۳﴾ قُلْ لِّـلَّـهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ؕ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۴۴﴾
Q-39:43-44یا کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور سفارشی بنا رکھے ہیں؟ کہہ دیجیے: "اگرچہ وہ کسی اختیار کے مالک نہ ہوں اور نہ ہی عقل رکھتے ہوں؟" (43) کہہ دیجیے: "سفارش کا سارا اختیار اللہ ہی کے پاس ہے۔" (44)
وَلَا يَشۡفَعُوۡنَۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰى وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَـتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴿۲۸﴾
Q-21:28اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جس کے بارے میں وہ (اللہ) راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں۔
وَقَالَ الرَّسُوۡلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِى اتَّخَذُوۡا هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾
Q-25:30اور رسول کہینگے: "اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔"
**********