رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

اِسلام کا تعارف

بے شک اسلام کا تعارف ہر متنفس کے سینے میں دل کی دھڑکن کی فطرت میں موجود ہے لیکن اکثر دل گمراہی کے پردے میں ملفوف ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ میری ان گمراہیوں کے پردہ کو کھولنے کی کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین

"جب بندہ اپنے خالق اور تمام کائینات کے خالقِ مطلق کی مُخلِص ہوکر عِبادت کریں۔ اس کے دین کے صراط مستقیم پر چلتے ہوئے نیک اعمال کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ تو یہی سیدھا، سچّا اور پائیدار دین اسلام ہے۔"

فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا ‌ؕ فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ‌ؕ لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَـلۡقِ اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۙ‏ ﴿۳۰﴾ مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَۙ‏ ﴿۳۱﴾

Q-30:30-31

پس تم دین حنیف یعنی حق کے راستے پر ثابت قدم رہو۔ یہ وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے انسانیت کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت (راستہ حق) میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے۔ (۳۰)۔ اُسی ایک اللّٰہ کی طرف رجوع ہو جاؤ، اور اُس سے ڈرو، اور نماز قائم کرو، اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ۔ (۳۱)

وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۙ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ‌ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ ؕ‏ ﴿۵﴾

Q-98:05

اور انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ مُخلِص ہوکر اللہ کی عبادت کریں، اور اُس کے دین کے سیدھے راستے پر چلتے ہوئے نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ اور یہی سیدھا اور پائیدار دین ہے۔

فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ‌ۚ‏ ﴿۱۵۶﴾

Q-07:156

خُدا اپنی رحمت اُن لوگوں کے لِیے لِکھ دیتا ہے۔ جو تقویٰ اَختِیار کرتے ہیں۔ اور ذکوٰۃ دیتے ہیں۔ اور خُدا کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔

رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا فَاعۡبُدۡهُ وَاصۡطَبِرۡ لِـعِبَادَتِهٖ‌ؕ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهٗ سَمِيًّا‏ ﴿۶۵﴾

Q-19:65

آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اُن سب کے رب کی عبادت کرو۔ اور اس کی عبادت پر صبر کرو۔ کیا آپ کے علم میں اس جیسا کوئی اور ہے؟

وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ‌ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ‏ ﴿۳۶﴾

Q-19:36

اور بےشک ﷲ میرا اور تمہارا رب ہے، اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

اِبتدأ سے آخیر صِرف اِسلام۔

خُدا کا یہ دین اُس دِن وُجود میں آگیا تھا، جِس دِن آدمؑ کو ماں حوّا کے ساتھ زمین پر اُتارا گیا۔ ہاں شریعت (طریقہ دین) الگ تھے۔ مثلاً نماز کا حُکم نہیں تھا یا ہو سکتا ہے کہ عِبادت کا وُجُود ہی نہ ہو۔ لوگؤں کی اِیمانداری، خُدا کی شُکر گُزاری اور بھلائی کے کام یا کُچھ خاص موقعوں پر خُدا کے لِیے قُربانی اُس وقت کے لوگؤں کے لِیے جزَا وَسزا کا پیمانہ ہو سکتے ہیں۔

شُروع میں سب اِنسان ایک ہی طریقے پر تھے۔ یعنی خُدا کی ھِدایت پر، یہ کہ خُداء یکتہ کی شُکر گُزاری وَفرمابرداری۔ مگر جب لوگ بڑھنے لگے تو اُن کے درمیان تنازہ اور مُنفرِد خیالات پیدا ہونے لگے۔ ایسے وقت میں خُدا نے پیغمبروں کو ھِدایات اور احکاماتِ فُرقان دیکر بھیجنا شُروع کِیا۔ مگر حق واضح ہوجانے کے بعد بھی لوگوں میں ضِد اور تکبُّر کی خاطِر اِختلافات بڑھنے لگے۔

خدا کے فرمابردار لوگوں کو عربی زبان میں مُسلِم (فرمابردار) کہا جاتا ہے۔ آدمؑ سے لیکر نبی مُحمّدؐ تک تمام انۢبِیاں اور ان کے راست باز اُمّتی اپنے-۲ زمانے کی زبان میں جِس لقب سے بھی پُکارے گئے ہوں، عربی زبان میں سب مُسلِم ہی کہلا ئینگے۔ پِھر بھلے وہ یہودی ہوئے یا عیسائی ہوے یا صابیئن یا اور کوئی اہلِ کِتاب۔ لیکِن شرط یہ ہے کہ مومِن ہو یعنی راہِ راست پر ہوں۔

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ‏ ﴿۲۵﴾

Q-21:25

اور ہم نے تم سے پہلے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا، جِس کی طرف یہ وحی نہیں کی گئی ہو، کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری عبادت کرو۔

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ وَاَنۡزَلَ مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ بِالۡحَـقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ النَّاسِ فِيۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ ‌ؕ وَمَا اخۡتَلَفَ فِيۡهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡهُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ بَغۡيًا ۢ بَيۡنَهُمۡ‌ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ مِنَ الۡحَـقِّ بِاِذۡنِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ‏ ﴿۲۱۳﴾

Q-02:213

شروع میں تمام انسان ایک ہی طریقے (راہِ راست) پر تھے، پھر اللہ نے نبیوں کو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا، اور اُن کے ساتھ سچائی پر مبنی کِتابیں نازل کی، تاکہ لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کریں۔ مگر جن لوگوں کو یہ کتاب دی گئی، اُنہوں نے واضح حق آجانے کے بعد محض آپس کی سرکشی اور ضد کی بنا پر اِختلافات پیدا کیے۔ پھر اللہ نے اپنے حکم سے ایمان والوں کو اُن اختلافی امور میں سچائی کی راہ دکھا دی۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

شَرَعَ لَـكُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوۡحًا وَّالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهٖۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى وَعِيۡسٰٓى اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِيۡهِ‌ؕ ‏ ﴿۱۳﴾

Q-42:13

ہم نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جو نوحؑ کو سکھایا تھا، اور (اے مُحمّدؐ) اُسی وحئ کو ہم نے تُمہاری طرف بھیجا، نیز وہی ہدایت ابراہیمؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دی تھی کہ: دین کو قائم کرو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔

اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ‌ۙ قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿۱۳۱﴾ وَوَصّٰى بِهَآ اِبۡرٰهٖمُ بَنِيۡهِ وَ يَعۡقُوۡبُؕ يٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَـكُمُ الدِّيۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَؕ‏‏ ﴿۱۳۲﴾ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِىۡؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَآٮِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ۚ وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿۱۳۳﴾

Q-131:133

جب اِبراہیم کے رب نے اس سے کہا، اِسلام لے آؤ (فرمانبردار ہو جاؤ)، تو اس نے (اِبراھیمؑ نے) کہا، 'میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا' ﴿۱۳۱﴾ اور ابراہیمؑ نے اپنے بیٹوں کو اسی (دین) کی وصیت کی اور یعقوبؑ نے بھی، (کہا کہ) 'اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمہارے لیے یہ دین پسند کیا ہے، سو اگر تمہیں موت آئے، تو اِس حال میں کہ تم مسلمان ہو ﴿۱۳۲﴾ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوبؑ پر موت آئی تھی؟ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا، 'تم میری وفات کے بعد کِس کی عبادت کرو گے؟' انہوں نے کہا، 'ہم آپ کے معبود اور آپ کے آبا وجداد ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے معبود کی عبادت کریں گے، جو معبود یکتہ ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار (مُسلِم) ہیں ﴿۱۳۳﴾۔

خدا کا حقیقی دین اسلام ہے۔

زمانہ کوئی بھی رہا ہو۔ پیغمبر، رسول اور اُن کے ساۓ وقت کی چادر میں لِپٹتے رہے۔ مگر خدا کا دین جو اِبتدا میں تھا، قیامت تک وہی رہیگا۔ انسان ضِد اور تکبّر میں مذہبی فِرقے تراشتا رہا اور خود پر ظُلم کرتا رہا۔

الگ الگ زبانوں میں خدا کو خدا کہو یا اللّٰہ، یھوہ کہو یا ایل، ایلوہیم کہو یا ادونائی، گوڈ کہو یا فادر، لورڈ کہو یا رحمٰن و رحیم۔ یہ سب الگ الگ زمانوں اور زبانوں میں خدا کے ہی نام ہیں۔ ایک معین وقت کے بعد سب اُسی خدا کی عدالت میں کھڑے ہونگے۔ توریت، ذبور، انجیل اور قران ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی مقدّس کتابیں ہیں۔ ہر کتاب اپنے سے پہلی کتاب کا Update Version ہے۔

ہر انسان جانتا ہے کہ وقت کے ساتھ ترقی قدرت کا قانون ہے۔ خدا نے بھی وقت کے ساتھ اپنی کتابوں اور قانون کو Update کیا۔ تو کیا خدا کے بندوں کا یہ فرض نہیں ہے کہ خدا کی کتابوں سے نفرت کرنے کی بجائے ان کے اپڈیٹ شدہ ورژن کو کم از کم ایک بار پڑھنے کی زحمت اٹھائیں؟

غور فرمائیں! کیا خدا کا ایک کے بعد دوسرا نبی بھیجنے کا مقصد اپنے بندوں کو update رکھنا نہیں تھا؟ ایک بات اچھی طرح جان لیں، خدا کو وہی پاتے ہیں جو کوشِش کرتے ہیں۔

میں ہر اہلِ کِتاب سے کہتا ہوں کہ خدا کے پاس آپ کا دین اسلام ہے۔ آپ بھلے ہی اپنے دین کو update نہ کریں۔ لیکن خدا کی تازہ ترین کتاب قرآن مجید کا کم از کم ایک بار ضرور مطالعہ کریں۔ خدا کوشش کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔

وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ‌ؕ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰهِيۡمَ‌ؕ هُوَ سَمّٰٮكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَفِىۡ هٰذَا لِيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَهِيۡدًا عَلَيۡكُمۡ وَتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِۚ ﴿۷۸﴾

Q-22:78

اس (خدا) نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ [یہ] تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے۔ اس نے پہلے اور اس (قرآن) میں تمہارا نام مسلمان رکھا تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔

مَا كَانَ اِبۡرٰهِيۡمُ يَهُوۡدِيًّا وَّلَا نَصۡرَانِيًّا وَّلٰكِنۡ كَانَ حَنِيۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ‏ ﴿۶۷﴾

Q-03:67

ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی۔ وہ سیدھے راستے پر تھے۔ جو سیدھا اللہ کی طرف جاتا تھا، وہ خُدا کے حُکم کے پابند مُسلِم تھے، اور اس کا مشرکوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اِنَّ الدِّيۡنَ عِنۡدَ اللّٰهِ الۡاِسۡلَامُ وَمَا اخۡتَلَفَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡيًا ۢ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ‏ ﴿۱۹﴾

Q-03:19

اللہ کے نزدیک اَصِل اور قابلِ قبول دین صرف اسلام ہے۔ جن لوگوں کو کتاب (آسمانی تعلیمات) دی گئی تھی، اُنہوں نے علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد اور حسد کی بنا پر اختلافات پیدا کیے۔ جو کوئی اللہ کی آیات کا انکار کرے تو یقیناً اللہ جلدی حساب لینے والا ہے۔

وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ ۚ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏ ﴿۸۵﴾

Q-03:85

اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور چیز کو اپنا دین چاہیگا، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جایگا۔ اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

اسلام کے اساس۔

زمانہ قدیم سے اسلام کی دو بنیادی اساس ہیں۔

پہلا دائمی اساس۔ "سُنت اللّٰه":-

جو کبھی کسی نبی یا رسول کے لیے نہیں بدلا، وہ ہے سُنتُ اللّٰه یعنی لَا اِلَہٰ اِلا اللّٰہ (نہیں ہے کوئی معبود مگر صرف اللّٰہ)۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخلص ہوکر اسی سُنتُ اللّٰہ پر قائم رہکر عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے۔

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ‏ ﴿۲۵﴾

Q-21:25

اور ہم نے تم سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اِس لِئیے میری ہی عبادت کرو۔

شَرَعَ لَـكُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوۡحًا وَّالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهٖۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى وَعِيۡسٰٓى اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِيۡهِ‌ؕ ‏﴿۱۳﴾

Q-42:13

اس نے تمہارے لیے وہ دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی تھی اور جس کی ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی تھی: پش دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔

قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ وَلَاۤ اُشۡرِكَ بِهٖؕ اِلَيۡهِ اَدۡعُوۡا وَاِلَيۡهِ مَاٰبِ‏ ﴿۳۶﴾

Q-13:36

اے محمّدؐ کہہ دو! کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے

وَمِنۡ اٰيٰتِهِ الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ‌ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِىۡ خَلَقَهُنَّ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ‏ ﴿۳۷﴾

Q-41:36

اور اس خدا کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

دوسرا عارضی اساس، "شَریعتُ اللّٰه یعنی آئین "۔

جو وقت اور ضرورت کے ساتھ Update ہوتا رہا۔ وہ ہے شریعتُ اللّٰہ (اللّٰہ کے احکامات)۔ یعنی وقت اور ضرورت کے مطابِق جیسے جیسے انسان اپڈیٹ ہوتا رہا۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے انۢبیاء پر نئی شریعت اپڈیٹ کرتا رہا۔ تاکہ فرمابردار ایمان والوں اور شِرک و کُفر والوں کے بیچ انصاف کر سکے۔

درحقیقت، خدا نے انسانوں اور جنوں کو تمام مخلوقات میں سے شریعت کی پابندی کے لیے چنا، اور انتخاب کی آزادی دی ہے۔ خواہ وہ راہِ راست اختیار کریں یا کُفر۔ اللّٰہ تعالیٰ چار بڑی کتابوں توریت، زبور، انجیل اور قران کے علاوہ انگِنت صحیفوں کا ذِکر کرتا ہے۔

اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَ حَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوۡمًا جَهُوۡلًا ۙ‏ ﴿۷۲﴾ لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ وَالۡمُشۡرِكٰتِ وَيَتُوۡبَ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا‏ ﴿۷۳﴾

Q-33:72-73

بے شک ہم نے امانت (شریعت) کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا لیکن انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، وہ ظالم اور جاہل تھا۔ ۙ ﴿72﴾ تاکہ خدا منافق مرد و عورت اور مشرک مرد اور عورت کو عذاب دے اور خدا مومِن مرد و مومِن عورت کو بخش دے، اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ ﴿۷۳﴾۔

وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ‏ (۳۸) يَمۡحُوۡا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُ ‌ۖ ‌ۚ وَعِنۡدَهٗۤ اُمُّ الۡكِتٰبِ‏ ﴿۳۹﴾

Q-13:38-39

(ﷲ تمام نبیؤں پر نازِل کی گئی کِتابوں اور صحیفؤں کے لِیئے ارشاد فرماتا ہے)۔ اور کسی رسول کے اختیار میں نہ تھا کہ وہ ﷲ کے حکم کے سوا کوئی آیت لاتا۔ ہر زمانے کے لئیے کتاب (حکم،قانؤن) ہے ﴿۳۸﴾ ﷲ جس [حُکم] کو چاہتا ہے مِٹا دیتا ہے اور [جس حُکم کو چاہتا ہے] باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب [لُوحِ محفوض] ہے۔

حجۃ الوداع کے دن اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’دین کی تکمیل‘‘ کی خبر دی اور فرمایا: ’’ہم نے تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی خبر دی ہے۔ یعنی قیامت تک نہ کوئی نبی پیدا ہو گا اور نہ کوئی دوسری شریعت (آئین) نازل ہو گی۔ قرآن اور اس کے احکام باقی دنیا کے لیے برقرار رہیں گے کیونکہ وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕ ﴿۳﴾

Q-05:03

"آج ہم نے تُمہارے لِیے تُمہارا دین مُکمّل کر دیا، تُم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تُمہارے لِیے اِسلام کو بطور دین پسند کر لیا"۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا‏ ﴿۴۰﴾

Q-33:40

محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

اِنَّ الدِّيۡنَ عِنۡدَ اللّٰهِ الۡاِسۡلَامُ ﴿۱۹﴾

Q-03:19

اللہ کے نزدیک واحد سچا اور مقبول دین اسلام ہے۔

خدا اپنے بندوں کو اسلام کی دعوت دیتا ہے۔

آخری نبی محمّدؐ سے پہلے حضرت یعقوبؑ (اسرائیلؑ) کی آل میں جو بھی نبی آۓ وہ محض بنی اِسرائیل کی اولادوں کو راہِ راست دکھانے کے لیے مخصوص تھے۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ خدا اور اُس کا دین ایک خاندان تک محدود ہوکر رہ گیا تھا۔ حالانکہ وقتاً فوقتاً دوسری قوموں کو بھی دین کی دعوت دینے کے نشانات موجود ہیں۔ مگر عالمی دعوت نہیں ملتی۔

محمّدؐ کو اللّٰہ تعالیٰ نے رحمتُ العٰلَمین کہا اور پورے عالم کے تمام انسانوں کے لیے نبی مقرّر کیا۔ خدا نبیؐ سے فرماتا ہے کہ! آپ تمام اہلِ کتاب کے علاوہ اُن تمام لوگوں کو بھی دین کی دعوت دیں جو ابھی تک دین سے ناآشنا ہیں۔

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿۱۰۷﴾

Q-21:107

اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿۲۸﴾

Q-34:28

اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے رحمت، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡهِىَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ‌ؕ وَقُل لِّلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡاُمِّيّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ‌ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اهۡتَدَوْا ‌ۚ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ ‌ ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۲۰﴾

Q-03:20

پس تم کہو! میں نے اپنا چہرہ خدا اور میرے پیروکاروں کے سپرد کر دیا ہے۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی اور ان پڑھوں (یعنی جن کو کتاب نہیں دی گئی) سے کہو: کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ پھر جس نے اسلام قبول کیا وہ یقیناً ہدایت پا گیا۔ اور ان میں سے جو قبول نہیں کرتے تو تم پر تو صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ ۚ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏ ﴿۸۵﴾

Q-03:85

جو شخص دین کے طور پر اِسلام کے سوا کوئی اور راستہ ڈھونڈے گا، اُس کا وہ (دین) ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِى السِّلۡمِ کَآفَّةً وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ‌ؕ اِنَّهٗ لَـکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿۲۰۸﴾

Q-02:208

اے اِیمان والو! اِسلام میں پُورے کے پُورے داخِل ہو جاؤ، اور شَیطان کے رَاستوں پر نہ چلو۔ یقیناً وہ تُمہارا کُھلا ہوا دشمن ہے۔

ہر نومولود پیدائشی مُسلِم۔

اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ معصوم ہے اور خدا کی تخلیق کردہ فطرت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے مقرر کی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ: حق اور باطل، اچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی صلاحیت۔ یعنی ہر شخص کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے جانتا ہے کہ وہ نیکی ہے یا بُرائی۔ خدا کی یہ فطرت نہ کبھی بدلی ہے اور نہ کبھی بدلے گی۔

اِس مسلہ کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا کا ہر مشرک اور کافر جانتا ہے کہ حقیقی معبود ایک ہی ہے۔ مثلاً ایک ہندو سے پوچھو کہ کتنے اِشور ہیں؟ جواب ملیگا ایک۔ جبکہ اس کی پوجا انیک بھگوان کے لیے ہوتی ہے۔ اِسی طرح مشرک سے پوچھو کہ کتنے خدا ہیں؟ جواب ملیگا ایک۔ لیکن اس کا ایمان انۢبیاء، درگاہوں اور اولِیأ میں اٹکا رہتا ہے۔ اِنسان کی یہی فِطرت ہے کہ: جیسے جیسے اُس کے بازُؤ مضبوط ہوتے جاتے ہیں، کُفر وَشِرک اور فِتنہ اندازی میں مُبتلا ہوتا جاتا ہے۔

فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا ‌ؕ فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ‌ؕ لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَـلۡقِ اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۙ‏ ﴿۳۰﴾

Q-30:30

پس تمام باطل سے کنارہ کشی اختیار کرو اور اس دین کی پیروی کرو جو خدا کی فطرت ہے اور جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ خدا کی پیدا کردہ فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

اسلامی زندگی: ایک آزمائش۔

جب خدا نے پہلے اِنسان آدمؑ کو پیدا کیا اور اُنہیں جنت میں رکھا تو خدا نے اس سے عہد لیا کہ وہ ایک مخصوص درخت کا پھل نہیں کھائینگے۔ اس کے علاوہ وہ جنت میں جہاں سے چاہے کھا سکتے تھے۔ لیکن آدم علیہ السلام نے اس عہد کو توڑ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ: خدا کا امتحان اور انسان کی ناکامی انسانوں کے زمین پر قدم رکھنے سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔

وَقُلۡنَا يٰٓـاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَـنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿۳۵﴾

Q-02:35

ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو، اور اس میں سے جہاں سے چاہو بے دریغ کھاؤ، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں خسارے میں پڑ جاؤ گے۔

وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِىَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَهٗ عَزۡمًا‏ ﴿۱۱۵﴾

Q-20:115

اور یقینًا، ہم نے آدم کو پہلے ایک حکم دیا تھا، لیکن وہ بھول گیا، اور ہم نے اس میں عزم نہیں پایا۔

لیکِن جِس اِنسان کو خُدا نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اُس کا یُوں پہلی ہی آزمائیش میں ناکام ہونا اِس بات کی نشاندہی تھی کہ اِنسان کمزور عناصِر کا مجموعہ ہے۔ پس خُدا نے اِنسان کے لِیے رحمت اپنے اوپر فرض کرلی۔ خُدا فرماتا ہے کہ: اگر اِنسان توبہ کریں تو میری رحمت سے مایوس نہ ہوگا۔

يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ‌ۚ وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِيۡفًا‏ ﴿۲۸﴾

Q-04:28

ﷲ تم پر آسانی کرنا چاہتا ہے، اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ‌ ۙ اَنَّهٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡكُمۡ سُوۡٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ وَاَصۡلَحَۙ فَاَنَّهٗ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿۵۴﴾

Q-06:54

رب نے اپنی ذات پر رحمت فرض کر دی ہے۔ چنانچہ جو تم میں سے جہالت سے بُرا عمل کر لے، پھر اس کے بعد رجوع کرے اور توبہ کرے، تو بے شک اللہ غفور ورحیم ہے۔

جب شیطان نے عالم ارواح (روحانی دنیا) میں لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے خدا سے اجازت طلب کی تو خدا نے اسے اجازت دی اور کہا کہ میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ لہٰذا، اس عہد کو پورا کرنے کے لیے، اور اپنے وفادار بندوں کو نافرمانوں سے الگ کرنے کے لیے، خدا نے ہمیشہ کے لیے بنی آدم میں آزمائش قائم کی۔ تاکہ ہر جِنّ واِنس کو اُس کے اعمال کا بدلہ دیں۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَلَاُغۡوِيَـنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏ ﴿۳۹﴾ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿۴۰﴾ قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسۡتَقِيۡمٌ‏ ﴿۴۱﴾ اِنَّ عِبَادِىۡ لَـيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَـعَكَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ‏ ﴿۴۲﴾

Q-15:39-42

(اِبلیس نے) کہا اے میرے رب جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے۔ اسی طرح میں اِن کے لِیے زمین (کی زینت) خوش نُما بناؤںگا، اور انہیں گمراہ کروں گا۔ (39) سِواۓ اُن کے جو تیرے مخلص بندے ہیں۔ [کیونکہ اُن پر قابو چلنا مشکل ہے] (40) خُدا نے فرمایا! یہ میرا سیدھا راستہ ہے۔ (41) یقیناً میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ سوائے ان کے جو گمراہ ہوکر تیری پیروی کریں۔ (42)

وَلَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰٮهَا وَلٰـكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّىۡ لَاَمۡلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿۱۳﴾

Q-32:13

اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو ہدایت دے دیتے، لیکن میرا فیصلہ طے ہو گیا ہے کہ میں جہنم کو جن وانسان سب کے سب سے ضرور بھر دوں گا۔

خدا فرماتا ہے کہ! انسان کی دُنیاوی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے۔ یہاں پر موجود امیری، غریبی، عیش وعشرت آزمائیشی بھٹّیاں ہیں۔ جِس میں تپکر آخِرت کا سامان اِکٹّھا کرنا ہے۔ پس انسان یا تو اپنے اعمال کو سیڑھی بنا کر آخرت میں مقام حاصل کر سکتا ہے یا پھر جہنم کی بھٹی میں دفن ہو سکتا ہے۔

وَهُوَ الَّذِىۡ جَعَلَـكُمۡ خَلٰٓٮِٕفَ الۡاَرۡضِ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِىۡ مَاۤ اٰتٰٮكُمۡ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيۡعُ الۡعِقَابِ وَاِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿۱۶۵﴾

Q-06:165

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر نائب بنایا۔ اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات بلند کئے، تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ بے شک تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ ؕ وَلَـلدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿۳۲﴾

Q-06:32

دنیا کی زندگی کچھ نہیں مگر کھیل اور تماشا ہے، اور تقویٰ والوں کے لیے آخرت کا ٹھکانہ اس سے کہیں بہتر ہے۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟

اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ اَمۡشَاجٍۖ نَّبۡتَلِيۡهِ فَجَعَلۡنٰهُ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ﴿۲﴾ اِنَّا هَدَيۡنٰهُ السَّبِيۡلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوۡرًا‏ ﴿۳﴾

Q-76:02-03

یقیناً، ہم نے انسان کو منی کے قطرہ سے پیدا کیا، تاکہ ہم اُسے آزمائیں، پھر ہم نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا (عاقِل) بنایا ﴿۲﴾ بے شک، ہم نے اسے (پیغمبروں کے ذریعہ) راہ دکھائی، خواہ اَب وہ شکر گزار بنے یا نَاشُکرا۔

اِس لِیے خُدا نے آدمؑ سے فرمایا کہ تم آپس میں بعض بعض کے دشمن ہوگے۔ مگر جب تمہارے پاس میری طرف سے پیغمبر کے ذریعہ کوئی ہدایت پہنچے ، تو جو تُم میں سے میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہوگا، اور نہ عذاب میں ڈالا جائیگا۔ اور جو میری ھِدایت سے مُنہ پھیرے گا، اس کی آخِرت تنگ ہوجائیگی، اور قیامت کے دِن ہم اُسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔

وَقُلۡنَا اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَـكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ‏ ﴿۳۶﴾

Q-02:36

اور ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ؛ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے، اور تمہارے لیے زمین میں ایک مقررہ وقت تک ٹھکانا اور فائدہ (رزق ومعاش) ہے۔

قُلۡنَا اهۡبِطُوۡا مِنۡهَا جَمِيۡعًا ‌‌ۚ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ مِّنِّىۡ هُدًى فَمَنۡ تَبِعَ هُدَاىَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‏ ﴿۳۸﴾ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِـاٰيٰتِنَآ اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۹﴾

Q-02:38-39

ہم نے فرمایا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر جب کبھی تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے اُن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (38) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیںگے (39)۔

پہلی اسلامی مسجد کی تعمیر۔

شُروع کے وقت میں عِبادت کا کوئی مخصوص طریقہ رائج نہیں تھا۔ خُدا نے اِبراھیمؑ اور اُن کے بیٹے اِسمٰعیلؑ کو بکّہ (آج کا مکّہ) میں دُنیا کی پھلی مسجِد ’’خانہ کعبہ‘‘ (مسجِد حرام) تعمیر کرنے کا حُکم دِیا۔ اور اُنھیں خانہ کعبہ کا طواف کرنے، خیرات (بھلائی) کے کام کرنے، ذکوٰۃ دینے اور نماز قائم کرنے کا حُکم دِیا۔

وَاِذۡ يَرۡفَعُ اِبۡرٰهٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَيۡتِ وَاِسۡمٰعِيۡلُؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ‏ ﴿۱۲۷﴾ رَبَّنَا وَاجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَيۡنِ لَـكَ ومِنۡ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسۡلِمَةً لَّكَ ومِنۡ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسۡلِمَةً لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبۡ عَلَيۡنَاۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ‏ ‏﴿۱۲۸﴾

Q-02:127-128

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (اور دعا کرتے تھے): 'اے ہمارے رب! ہماری یہ خدمت قبول فرما لے۔ یقیناً تُو سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔ ﴿۱۲۷﴾ اے رب! ہمیں اپنے سامنے سر جھکانے والا بنا، اور ہماری نسل سے بھی ایک ایسی جماعت کھڑی کر جو تیری فرماں بردار ہو. اور (اے ہمارے ربّ) ہمیں عبادت کا طریقہ سِکھا، اور ہمارے حال پر توجہ فرما۔ بیشک تُو مہربان اور توبہ قُبول فرمانے والا ہے ﴿۱۲۸﴾

وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمۡنًا﯀ وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰهٖمَ مُصَلًّى‌ ؕ وَعَهِدۡنَآ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِىَ لِلطَّآٮِٕفِيۡنَ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ‏ ﴿۱۲۵﴾

Q-02:125

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لیے اَمَن اور جمع ہونے کی جگہ مُقرّر کِیا، اور (حکم دیا) کہ مُقامِ ابراہیمؑ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ اور ہم نے اِبراہیمؑ اور اسماعیلؑ کو حکم دیا تھا کہ: میرے گھر (کعبہ) کو طوَاف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رُکوع وَسجدہ کرنے والوں کے لِیے پاک رکھو۔

اِسلام؟ مِلَّتِ اِبراھیمؑ۔

مُحمَّدؐ کا اِسلام حضرت اِبراھیمؑ کی مِلّت ہے۔ خُدا نے دین کا جو طریقہ اِبراھیمؑ کو سِکھایا تھا۔ اُسی مِلّت (طریقے) کو نبی مُحمّدؐ پر وحئ کے ذریعہ نازِل کِیا گیا۔ اور جِس قِبلہ (خانہ کابعہ) کو اُس وقت کے شہر بَکَّہ (آج کے مَکَّہ) میں اِبراھیمؑ اور اِسمٰعیلؑ نے تعمیر کیا تھا۔ جو اُنکے لِیے اور دُنیا کے لِیے پہلی مسجِد تھی۔ آج یہ اِسلام ماننے والے تمام مُسلمانوں کا قِبلہ ہے۔

ثُمَّ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ اَنِ اتَّبِعۡ مِلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا‌ ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ‏ ﴿۱۲۳﴾

Q-16:123

پھر ہم نے آپ کی طرف وحیٔ بھیجی کہ آپ ابراہیم کے دین کی پیروی کریں جو ایک طرف کے ہوکر رہے تھے۔ اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔

قُلۡ صَدَقَ اللّٰهُ‌ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا﯀ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ‏ ﴿۹۵﴾ اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَـلَّذِىۡ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‌‌ۚ‏ ﴿۹۶﴾ فِيۡهِ اٰيٰتٌ ۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰهِيۡمَ ۚ وَمَنۡ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ‌ؕ ﴿۹۷﴾

Q-03:95-97

(اے رسول!) کہہ دو کہ اللہ نے سچ کہا ہے، لہذا ابراہیم کی ملّت کی پیروی کرو جس نے باطل کو چھوڑ کر سیدھے اللہ کی طرف رجوع کیا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ (95) درحقیقت سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے عبادت کے لیے بنایا گیا وہ بکّہ میں ہے۔ یہ بابرکت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ (96) اس میں واضح نشانیاں ہیں، جیسے مقام ابراہیم۔ اور جو اس میں داخل ہو گیا وہ (جہنم کے عذاب سے) محفوظ ہو گیا۔ (97)

وَمَنۡ اَحۡسَنُ دِيۡنًا مِّمَّنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحۡسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا‌ ؕ وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبۡرٰهِيۡمَ خَلِيۡلًا‏ ﴿۱۲۵﴾

Q-04:125

اور اس سے بہتر کس کا دین ہو سکتا ہے کہ جو اپنا سارا وجود اللہ کے سپرد کر دے، نیک کاموں میں لگا رہے اور ابراہیم علیہ السلام کی ملّت کی پیروی کرے جس نے تمام باطل کو چھوڑ کر صرف اللہ کی طرف رجوع کیا۔ اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست بنایا تھا۔

قُلۡ اِنَّنِىۡ هَدٰٮنِىۡ رَبِّىۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۚ دِيۡنًا قِيَمًا مِّلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا‌ ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ‏ ﴿۱۶۱﴾

Q-06:161

اے پیغمبرؐ! کہہ دیجیے: بیشک میرے رب نے مجھے سیدھی راہ کی ھِدایت کی ہے۔ ایک سیدھے اور مضبوط دین کی طرف، جو اِبراھیمؑ کی مِلَّت ہے، وہ (اِبراھیمؑ) جو ہر باطل سے الگ ہو کر صرف اللہ کی طرف متوجہ تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔

************