رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
اسلام کے سُتون
عموماً اِسلامی عُلمأ اسلام کے پانچ سُتون (رُکن) پر اِتفاق رکھتے ہیں۔ لیکِن میری نظر میں اسلام کے سُتون سات ہیں۔ جو پوری طرح قُرآن سے ثابِت ہیں۔ اِن میں سے پہلے چار سُتون: یعنی مُخلص اِیمان، عمل صالِح، عبادت (نماز) اور ذکوٰۃ یعنی خرچ وہ رُکن ہیں، جِن کا پیغام دیگر پیغمبروں نے بھی دِیا۔ اور خُدا فرماتا ہے یہی دین کے اصلی سُتون ہیں۔ جو مومِن اِن چار رُکن (سُتون) کو اپنی زِندگی میں شامِل کرلیگا، اِنشاءﷲ وہ جنّت میں اپنا مُقام پالیگا۔
وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۙ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ ؕ ﴿۵﴾
Q-98:05اور انہیں (پیغمبر اور اہلَ کِتاب کو) صرف اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ مُخلِص ہوکر اللہ کی عبادت کریں، اُس کے دین کے سیدھے راستے پر چلتے ہوئے، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ اور یہی سیدھا اور پائیدار دین ہے۔
فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۚ ﴿۱۵۶﴾
Q-07:156خدا ان لوگوں پر اپنی رحمت لکھتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں، اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔
جبکہ پانچواں رُکن قُرآن ہے، قُرآن وہ درخت ہے جِس کے ساۓ کے بغیر ہم خُدا کی راہ نہیں پاسکتے۔ چھٹا رُکن رمضان ہے، جو اِنسان کی زِندگی میں نیکیاں جمع کرنے اور اُنہیں آگے بھیجنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ اور ساتواں رُکن حَجّ بیتُﷲ ہے۔ اللّٰہ کا وہ گھر! جِس میں قدم رکھنے والا انسان دُنیا وآخِرت میں اَمن پا جاتا ہے۔
۱۔ مُخلص اِیمان۔
خُدأ یکتہ پر اور اُس کے تمام اَنۢبیاں وَکِتابؤں پر، اور غیب کی چیزؤں (فرِشتؤں وَآخِرت کے دِن پر) اِیمان۔
قُلۡ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَكَّلۡنَاۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴿۲۹﴾
Q-67:29کہہ دو کہ! وہ (خُدا) بڑا مہربان ہے، اسی پر ہم ایمان لائے اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا۔ پس تم عنقریب جان لو گے کہ کھلی گمراہی میں کون ہے۔
قُلۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ وَ اِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَمَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى وَ عِيۡسٰى وَالنَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ؗ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ ؗ وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۴﴾
Q-02:136 & 03:84کہو: ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم پر نازل کیا گیا ہے اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کے قوموں پر نازل کیا گیا ہے اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا ہے اور جو دوسرے انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا ہے۔ ہم ان میں سے کسی میں کوئی فرق نہیں کرتے اور اسی کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔
۲۔ عمل صالِح۔
زِندگی خُدا کی شریعت کے مُطابِق گُزارے اور دوسروں کو بھی دین کی دعوت اور صبر کی تلقین دیں۔
وَالۡعَصۡرِۙ ﴿۱﴾ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ ﴿۲﴾ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۙ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴿۳﴾
Q-103:01-03عصر کی قسم (1) بے شک انسان خسارے میں ہے (2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کرتے رہے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں (3)۔
۳۔ نماز (صلوٰۃ)۔
نماز کو اُس کے وَقتؤں میں ادا کریں۔
اِنَّنِىۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِىۡ ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكۡرِىۡ (۱۴)
Q-20:14بے شَک، میں ہی اَللہ ہوں، میرے سِوا کوئی مَعبود نہیں، پس میری عِبادت کرو، اور میری یَاد کے لِیے نماز قَائم کرو۔
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتۡ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ كِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾
Q-04:103درحقیقت اہل ایمان پر نماز اپنے مقررہ اوقات میں ادا کرنا فرض ہے۔
۴۔ ذکوٰۃ۔
ضرورت مند لوگؤں کی مدد کے لِیے خرچ کرنا۔
اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا يُّضٰعِفۡهُ لَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡؕ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌۙ ﴿۱۷﴾
Q-64:17اگر تم اللہ کو قرضِ حسنہ دو تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑا قدردان، نہایت بردبار ہے۔
مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِىۡ كُلِّ سُنۡۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ﴿۲۶۱﴾
Q-02:261جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال مکئی کے اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (ان کا مال) بڑھا دیتا ہے۔ وہ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
۵۔ قُرآن (مُقدّس کِتاب)۔
قُرآن کو محض پڑھے نہیں بلکہ قُرآن سے ربّ کا رَستہ ڈھونڈے۔
ذٰ لِكَ الۡڪِتٰبُ لَا رَيۡبَۛ ۚ فِيۡهِۛ ۚ هُدًى لِّلۡمُتَّقِيۡنَۙ ﴿۲﴾
Q-02:02یہ قُرآن وہ عظیم کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے راہنمائی ہے جو (خُدا سے) ڈرتے رہتے ہیں۔
وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡـكِتٰبَ تِبۡيَانًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً وَّبُشۡرٰى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴿۸۹﴾
Q-16:89اور (اے مُحمّدؐ) ہم نے آپ پر یہ کِتاب اُتاری ہے، جِس میں ہر چِیز کی وَضاحَت، اور مُسلمانوں کے لیے ھِدایت، رَحمت وَخُوشخبری ہے۔
وَكَذٰلِكَ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا كُنۡتَ تَدۡرِىۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ وَلٰـكِنۡ جَعَلۡنٰهُ نُوۡرًا نَّهۡدِىۡ بِهٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَاِنَّكَ لَتَهۡدِىۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍۙ ﴿۵۲﴾
Q-42:52اور اِسی طرح ہم نے آپؐ کی طرف اپنے حکم سےجِبرائیِلؑ (روح) کے ذریعۂ قُرآن (وحئ) نازِل کِیا۔ آپؐ اِس سے پہلے نہ کِتاب کا عِلم رَکھتے تھے اور نہ اِیمان کا، لیکن ہم نے اِس (قُرآن) کو نُور بنایا۔ اور اِس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں ھِدایت کی راہِ دکھاتے ہیں۔ اور یقیناً آپؐ خود سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
۶۔ رمضان۔
جس کی زندگی میں رمضان المبارک کا مہینہ آئے وہ اس سے محروم نہ رہے۔
يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۙ (۱۸۳)
Q-02:183اے مومِنؤں! تُم پر روزے فَرض کِیے گَئے ہیں، جِس طرح تُم سے پہلے لوگوں پر فَرض کِیے گئے تھے، تاکہ تُم پرہَیزگار بنو۔
۷۔ حَجّ بیتُﷲ۔
جو شخص بیتُﷲ تک پہنچنے کی وسعت رکھتا ہو۔
وَمَنۡ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الۡبَيۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَيۡهِ سَبِيۡلًا ؕ ﴿۹۷﴾
Q-03:97اور جو اس گھر میں داخل ہو گا وہ (دنیا اور آخرت میں) امان میں ہے۔ اور بیت اللہ کا حج ان لوگوں پر فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔
************