رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
حرام اور حلال کی تعلیم۔
اِس باب میں ہم حرام اور حلال کی تعلیم پر بحث کرینگے۔ یہ وہ موضوع ہے جِس کا عِلم ہر مُسلمان کے بچّے-۲ کی پہلی ترجیح ہونی چاہِیۓ۔
مومِنوں پر حرام وَحلال کا عِلم فرض۔
خُدا فرماتا ہے کہ: بغیر عِلم حرام وَ حلال پر بحث نہ کرو۔ یعنی ضروری ہے کہ ہر مومِن حرام و حلال کا بُنیادی عِلم رکھتا ہو۔ جدید تحقیق کے مُطابِق بھی پاک یعنی حلال کھانا اچھی صحت کی ضمانت ہے۔ جبکہ ناپاک یعنی حرام کھانا صحت کے لِیے مضر ہے۔ اِس لِیے خُدا سختی کے ساتھ صِرف حلال و پاکیزہ چیزیں کھانے کا حُکم دیتا ہے۔
وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَـتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّـتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَؕ ﴿۱۱۶﴾
Q-16:116اور اپنی زبانوں سے (بغیر علم کے) جھوٹ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام۔ کہ تم اللہ کے نام پر جھوٹ نہ باندھو۔
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ﴿۸۷﴾ وَكُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اَنۡـتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾
Q-05:87-88اے ایمان والو! اللہ نے جو پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ ٹھہراؤ، اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ﴿٨٧﴾ اور جو کچھ اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے، اُس میں سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ ﴿٨٨﴾۔
خُدا فرماتا ہے: ہو سکتا ہے ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں تردُّد میں ڈال دیں۔ کیونکہ پاک اور ناپاک چیزوں کا توازن برابر نہیں ہوتا۔ پس تقوٰی اختیار کرو۔
مِثال۔ خُدا نے قومِ یہود پر جب ہفتہ کے دِن شِکار حرام ٹھرا دِیا تھا، تو ہفتہ کے دِن پانی پر خوب کثرت سے مچھلِیاں نظر آتی۔ اور ہفتہ کے بعد باقی چھ دِن شِکار نہیں مِلتا۔ یہ خُدا کی طرف سے یہود کی آزمائیش تھی۔ جِس میں کُچھ یہود ناکام ہوکر خُدا کی نارازگی کا باعِث بنے تھے۔
قُلْ لَّا يَسۡتَوِى الۡخَبِيۡثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوۡ اَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ الۡخَبِيۡثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِى الۡاَ لۡبَابِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
Q-05:100کہو: ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوتے، اگرچہ ناپاک کی زیادتی تمہیں پسند آئے۔ اے عقل والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔
وَسۡـــَٔلۡهُمۡ عَنِ الۡـقَرۡيَةِ الَّتِىۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِۘ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِى السَّبۡتِ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ ۙ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ۚ كَذٰلِكَ ۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾
Q-07:163ان سے اس بستی کا قِصّہ پوچھو جو دریا کے کنارے تھی؛ جب وہ لوگ ہفتہ کے دن (شرعی پابندیوں کو) توڑتے تھے۔ ان کے سبت والے دن مچھلیاں سامنے آ جایا کرتیں اور جب سبت کا دن نہیں ہوتا، تو وہ مچھلیاں پاس نہ آتیں۔ اس طر ح ہم نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے انہیں آزمائش میں ڈالا۔
تعلیم کی ذمہ داری۔
دینی تعلیم فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے جب کہ ثانوی ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے۔ والدین اکثر اس فرض کو ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ وہ خود مطلوبہ علم سے محروم رہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کے لیے مدارس میں علماء کی مدد لیتے ہیں۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ اہل علم بھی اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ قرآنی تعلیم کے موجودہ نظام سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہے، خواہ وہ قرآن پڑھانے والے علماء ہوں یا قرآن پڑھنے والے طلباء۔ سچ تو یہ ہے کہ قرآن پڑھانے والے علمأ یا حافظ بھی نہیں جانتے کہ وہ کیا پڑھا رہے ہیں۔
میری نظر میں صرف قرآن کی تلاوت کرنے سے نیکیاں نہیں ملتی۔ اصل اجر اس وقت ملتا ہے جب کوئی شخص قرآن کی حقیقت کو سمجھتا ہے، اور پھر اس علم کو اپنی ذاتی زندگی میں گزارتا ہے۔ قرآنی رہنمائی کا وہ زندہ عمل ہی فضائل پیدا کرتا ہے۔ اب ذرا غور کریں: ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے غیر عربی بولنے والے ممالک میں کتنے عام لوگ قرآن کو سمجھ کر پڑھتے ہیں؟
ایسے علماء کے بارے میں خدا فرماتا ہے جن پر لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ عائد ہوتا ہے کہ انہوں نے تھوڑی سی دنیاوی قیمت پر خدا کے عہد سے خیانت کی، اس کی کتاب کو چھپایا اور حق کو واضح کرنے میں ناکام رہے، حالانکہ یہ ان پر لازم تھا کہ وہ اس کی ہدایت کو لوگوں پر واضح کریں اور اسے چھپائیں نہیں۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ يَشۡتَرُوۡنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ۙ اُولٰٓٮِٕكَ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُکَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَکِّيۡهِمۡ ۖۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ﴿۱۷۴﴾
Q-02:174بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب میں جو کچھ نازل کیا ہے اسے چھپاتے ہیں اور تھوڑی سی دنیاوی فائدے کے لیے اس کا سودا کرتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے ہیں۔ اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ وَالۡهُدٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِى الۡكِتٰبِۙ اُولٰٓٮِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَۙ ﴿۱۵۹﴾
Q-02:159بیشک جو لوگ ان واضح دلائل اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جو ہم نے نازل کیں، اس کے بعد کہ ہم انہیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے کتاب میں خوب بیان کر چکے، وہی لوگ ہیں جن پر خود اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے (فرشتے) بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ملامت کرتا ہے جو اپنے اعمال پر فخر کرتے ہیں اور ان کاموں کی تعریف چاہتے ہیں، جو انہوں نے حقیقی طور پر نہیں کیے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو یہ سمجھ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ عذاب سے محفوظ ہیں، لیکن حقیقت میں ایک سخت اور دردناک عذاب ان کا منتظر ہے۔ یہ آیت انسانیت کو نصیحت کرتی ہے کہ: اللہ کے سامنے کوئی فریب کامیاب نہیں ہوسکتا، اور ہر نفس کو اس کے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ﴿۱۸۸﴾
Q-03:188جو لوگ اپنے کیے پر فخر کرتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے حقیقت میں کبھی نہیں کیا اس کے لیے تعریف کی خواہش رکھتے ہیں، وہ ہرگِز یہ نہ سمجھیں کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اِس باب میں ہم قُرآن کی روشنی میں اُن باتوں یا چیزوں کی پہچان کر رہے ہیں۔ جِن کو خُدا نے حرام یا ممنوع قرار دیا ہے۔ یہ خُدا کے وہ احکامات ہیں جِن کی لاعِلمی ایک مومِن کو بھی شِرک وَکُفر میں مُبتلأ کر سکتی ہے۔
اِس باب کو ہم سات نظریہ سے پیش کرینگے۔
ا۔ اِنفرادی حرام عمل۔
یہ وہ حرام عمل ہیں۔ جِس میں اِنسان کی شخصِیت حرام عمل کرنے کی حامی ہوتی ہے۔
۲۔ معاشرتی حرام عمل۔
یہ وہ حرام عمل ہیں، جِن کا اثر معاشرہ پر پڑتا ہے۔ یا پورا کا پورا معاشرہ اِن اعمال کا حامی ہو جاتا ہے۔
۳۔ قِرابتی حرام عمل۔
یہ وہ حرام عمل ہیں جِن کا اثر خاندان پر پڑتا ہے۔ اور کبھی کبھی پورا خاندان تباہی کے مُہانے پر پہنچ جاتا ہے۔
۴۔ کھانے کی حرام اشیأں۔
کھانے کی وہ چیزیں جِن کو خُدا اپنے بندوں کے لِیے حرام قرار دیتا ہے۔
۵۔ شراب و نشہ آور حرام اشیاں۔
شراب یا وہ نشہ آور چیزیں جِن کو کھانے یا پینے سے عقل جاتی رہے۔ خُدا حرام قرار دیتا ہے۔ قُرآن میں الْخَمْرِ لفظ اِستعمال کِیا گیا ہے۔ جِس کا معنی ہیں۔ شراب یا وہ نشہ آور چیزیں جو عقل کو ڈھانپ لیں۔
۶۔ خُدا کی رحمت سے مایوسی حرام۔
کئی بار گُنہگار یا کافِر حق پہچان لیتے ہیں۔ لیکِن وہ اپنے اعمال کے سبب ربّ کریم سے اِس قدر مایوس ہوتے ہیں کہ حق قُبول کرنے سے ہِچکتے ہیں۔
۷۔ گُناہ کبیرا۔
کُچھ ایسے عمل جو انسان کی فِطرت میں شامِل ہو جاتے ہیں جو معاشرہ اور گھریلو زِندگیوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایسے عمل کو خُدا نے گُناہِ کبیرا کے زمرہ میں رکھا ہے۔ مزید پڑھیں۔
************